
خلیج اردو
لاہور: پنجاب اسمبلی میں 16 جون 2025 کے اجلاس کے دوران توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد خان نے سخت ایکشن لیتے ہوئے 10 ارکان اسمبلی پر 20 لاکھ سے زائد کا جرمانہ عائد کر دیا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے 26 ارکان کو معطل کر کے الیکشن کمیشن کو آج ہی ریفرنس بھیجنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، متاثرہ 10 ارکان کو فی کس 2 لاکھ 3 ہزار 550 روپے ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ویڈیو شواہد کی بنیاد پر کیا گیا اور واضح کیا گیا ہے کہ ادائیگی 7 روز میں نہ کرنے کی صورت میں پنجاب گورنمنٹ ڈیو ریکوری آرڈیننس 1962 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
Punjab assembly. Chief minister @MaryamNSharif speaking while opposition doing what It does best. pic.twitter.com/glEgERY4OK
— Ali Haider Gilani (@ahaidergilani86) June 27, 2025
جرمانے کی زد میں آنے والے ارکان کے نام درج ذیل ہیں:
چودھری جاوید کوثر، اسد عباس، محمد تنویر اسلم، سید رفعت محمود، محمد اسماعیل، شہباز احمد، امتیاز محمود، خالد زبیر، رانا اورنگزیب، اور محمد احسن علی۔
دوسری جانب، اسپیکر نے اسمبلی قواعد کی سنگین خلاف ورزی پر پی ٹی آئی کے 26 ارکان کو معطل کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ الیکشن کمیشن کو فوری طور پر بھیجا جائے گا تاکہ آئندہ ایوان میں ایسی بدنظمی برداشت نہ کی جائے۔
اسپیکر ملک محمد خان نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان کے طرزِ عمل کو افسوسناک قرار دیا اور کہا، "اگر اپوزیشن والے بیلٹ سے نہیں جیتے تو کیا اب بلٹ کا راستہ اختیار کریں گے؟ کیا بانی پی ٹی آئی کو میں نے جیل میں ڈالا ہے؟” انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسمبلی کے تقدس اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت میں قائم رکھا جائے گا۔






