عالمی خبریں

سانحہ سوات: جاں بحق افراد کی تدفین، ڈسکہ میں آٹھ سالہ انفال سمیت لاشیں برآمد، حفاظتی اقدامات کا اعلان

خلیج اردو
سوات: سانحہ سوات میں جاں بحق ہونے والے افراد کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے 8 سالہ انفال اور ایک شخص کی لاشیں نکال لی گئیں، جبکہ 15 سالہ عبداللہ کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

ڈسکہ کے جاں بحق 8 افراد میں 47 سالہ روبینہ اور ان کی دو بیٹیاں، 21 سالہ تزمین اور 17 سالہ شرمین شامل تھیں جن کی نماز جنازہ دارالعلوم مدنی ڈسکہ کلاں میں ادا کی گئی۔ بہن بھائی ایان اور آئمہ کی نماز جنازہ سمبڑیال روڈ عیدگاہ میں، جبکہ تین سگی بہنوں عجوہ، میرب اور مشال کی نماز جنازہ نور مسجد کالج روڈ پر ادا کی گئی۔ ان جنازوں میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی، تاہم کسی سیاسی یا سرکاری شخصیت نے شرکت نہ کی۔
مردان کے علاقے رستم میں بھی دو افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

ادھر وزیر اعلیٰ پنجاب نے ڈسکہ کے جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہار افسوس کیا ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت حرکت میں آ گئی
سانحے کے بعد حسب روایت حکومتی اقدامات کا اعلان سامنے آیا ہے۔ دریائے سوات میں 18 افراد کے ڈوبنے کے واقعے پر خیبرپختونخوا حکومت نے فوری اقدامات کا حکم دے دیا ہے۔ ترجمان وزیر اعلیٰ کے مطابق دریا کے کنارے بیرئرز نصب کیے جائیں گے اور سیاحتی مقامات پر روزانہ کی بنیاد پر پٹرولنگ بڑھائی جائے گی۔

حکومت نے دریا کنارے قانونی و غیر قانونی مٹی نکالنے کی تمام سرگرمیوں کو فوری بند کرنے اور بغیر اجازت تعمیر شدہ ہوٹلز کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ ہوٹل کی تعمیر کے لیے این او سی کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ تین دنوں میں تمام تجاوزات کے خاتمے کا حکم بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button