
خلیج اردو
ابوظہبی: مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے پس منظر میں، ایران کا قطر میں امریکی فوجی اڈے "العدید” پر میزائل حملہ کسی جذباتی یا اچانک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم اور سوچا سمجھا پیغام تھا۔ ریبدان اکیڈمی ابوظہبی کے محقق ڈاکٹر کرسچیئن پیٹرک الیگزینڈر کے مطابق یہ ایک حکمتِ عملی سے بھرپور کارروائی تھی، جس کا مقصد جنگ کو وسیع کرنے کے بجائے مخصوص اشارے دینا تھا۔
ڈاکٹر الیگزینڈر کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی سنٹرل کمانڈ کے مرکز پر حملہ علامتی اور تزویراتی دونوں تھا۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب ایک دن قبل امریکہ نے ایران کے جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے 23 جون کو قطر میں موجود امریکی اڈے پر درجنوں میزائل داغے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق حملے سے قبل القاعدہ بیس کو جزوی طور پر خالی کرا لیا گیا تھا اور قطری فضائی حدود کو بھی عارضی طور پر بند کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے پس پردہ ذرائع سے حملے کا عندیہ پہلے ہی دے دیا تھا۔
ایسا طرزِ عمل ایران پہلے بھی اختیار کر چکا ہے، جیسا کہ 2020 میں جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد عراق میں امریکی اڈوں پر حملے سے پہلے کیا گیا تھا، تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
ڈاکٹر الیگزینڈر کے مطابق ایران نے صرف امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور قطری انفراسٹرکچر یا شہریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تہران خطے میں اپنے تعلقات کو مکمل طور پر خراب نہیں کرنا چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے قطر کو بھی یہ باور کرایا کہ اگرچہ وہ ثالثی یا غیر جانبداری کی کوشش کرتا ہے، لیکن امریکی موجودگی کی قیمت اُسے چکانی پڑ سکتی ہے۔
مزید برآں، ایران کا یہ انداز عالمی سفارتی دباؤ سے بچنے کی حکمت عملی کا حصہ بھی ہے۔ حملہ اگرچہ جرأت مندانہ تھا، مگر اس میں حدبندی اور سیاسی پیغام رسانی کو مدِنظر رکھا گیا تاکہ ایران ایک منظم ریاست کے طور پر دیکھا جائے، جو ردِعمل میں منطق اور ضبط سے کام لیتی ہے۔
اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوری طور پر "ایران-اسرائیل جنگ بندی” کے اعلان نے صورتحال کو مزید دلچسپ بنا دیا، حالانکہ زمینی حقائق یہ نہیں تھے۔ یہ پیغام سفارتی، سیاسی اور عوامی سطح پر ایران کو ایک مہذب فریق کے طور پر پیش کرنے کی ایرانی کوشش کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر الیگزینڈر کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ پیغام واضح ہے کہ اگر اس کے مفادات کو چیلنج کیا گیا تو وہ جواب دے گا، مگر بغیر علاقائی جنگ کو بھڑکائے۔ اس حکمتِ عملی سے ایران دشمنوں کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا رکھتا ہے اور اپنی بین الاقوامی حیثیت میں توازن قائم رکھتا ہے۔







