
خلیج اردو
کراچی: عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل نے سوات میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دریائے سوات میں ڈوبنے والے 18 افراد بااثر ہوتے تو شاید ان کی جانیں نہ جاتیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ عوام کی جان کی حفاظت کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں قانون کی بالادستی اور حقیقی حکمرانی کا قیام ناگزیر ہے۔ "یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ ہم مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کا پہلا فیصلہ مانیں یا کل والا؟” انہوں نے طنزیہ سوال اٹھایا۔
سندھ کی تعلیم پر بات کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وہاں چار ہزار ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں، مگر نتائج انتہائی مایوس کن ہیں۔ "صرف 57 فیصد لوگ پڑھ لکھ سکتے ہیں، اور خیبرپختونخوا کے مقابلے میں سندھ میں تین گنا زیادہ بچے اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار گورننس کے بحران کو واضح کرتے ہیں۔
مفتاح اسماعیل نے زور دیا کہ جب تک ریاست عوام کی جان، تعلیم اور انصاف کی ذمہ داری سنجیدگی سے نہیں لیتی، اس وقت تک ایسے سانحات دہراتے رہیں گے۔






