ٹپس

آپ امریکی ویزہ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں؟ یہ خبر آپ کیلئے اہم ہے،امریکہ نے ویزہ انٹرویو چھوٹ کے اصول سے متعلق نئی تبدیلیاں کردیں، پالیسی 2 ستمبر سے نافذ

خلیج اردو
امریکی محکمہ خارجہ نے 25 جولائی کو ایک نئی اپڈیٹ جاری کرتے ہوئے ویزہ انٹرویو چھوٹ (Visa Interview Waiver) کے اصولوں کو مزید سخت کر دیا ہے۔ ویزہ انٹرویو چھوٹ پروگرام کے تحت کچھ درخواست گزار سفارت خانے میں انٹرویو دیے بغیر ڈاک کے ذریعے ویزہ درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔ یہ اہلیت آن لائن ویزہ درخواست کے وقت خود بخود جانچ لی جاتی ہے۔

تاہم، 2 ستمبر 2025 سے نافذ ہونے والی نئی پالیسی کے تحت اس پروگرام کے دائرہ کار میں بڑی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، جو فروری میں جاری کی گئی پالیسی کو منسوخ کر دے گی۔ اب تمام غیر امیگریشن ویزہ درخواست گزاروں کو ان نئے قواعد کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

نئی تبدیلی کیا ہے؟

2 ستمبر سے، تمام غیر امیگریشن ویزہ درخواست گزاروں، بشمول 14 سال سے کم عمر اور 79 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو عمومی طور پر قونصلر افسر کے ساتھ انٹرویو دینا لازم ہوگا۔

اس سے قبل، کئی وسیع کیٹیگریز کے درخواست گزار انٹرویو چھوٹ پروگرام کے اہل ہوتے تھے۔

کون لوگ مستثنیٰ ہوں گے؟

اگرچہ نئی پالیسی سخت کی جا رہی ہے، لیکن کچھ کیٹیگریز کے درخواست گزار اب بھی ویزہ انٹرویو چھوٹ کے لیے اہل ہوں گے۔ ان میں شامل ہیں:

1. سفارتکار اور غیر ملکی حکومتی عہدیدار
وہ درخواست گزار جو درج ذیل ویزہ کیٹیگریز میں آتے ہیں:
A-1، A-2، C-3 (سوائے ذاتی ملازمین کے)، G-1، G-2، G-3، G-4، NATO-1 سے NATO-6، یا TECRO E-1۔
ایسے درخواست گزار جو سفارتی یا سرکاری نوعیت کے ویزوں کے لیے درخواست دے رہے ہوں۔

2. B-1/B-2 ویزہ یا بارڈر کراسنگ کارڈ کی تجدید
وہ درخواست گزار جو اپنی مکمل مدت کے B-1، B-2، B1/B2 ویزہ یا بارڈر کراسنگ کارڈ (میکسیکن شہریوں کے لیے) کی میعاد ختم ہونے کے 12 ماہ کے اندر تجدید کرا رہے ہوں، اور جن کی عمر پچھلے ویزہ جاری ہونے کے وقت کم از کم 18 سال تھی۔

اس رعایت کے تحت اہل ہونے کے لیے:

  • درخواست گزار کو اپنے آبائی ملک یا رہائش کے ملک سے درخواست دینی ہوگی۔

  • درخواست گزار کو ماضی میں ویزہ انکار کا سامنا نہ ہوا ہو (سوائے اگر انکار کو ختم یا معاف کر دیا گیا ہو)۔

  • درخواست گزار پر کسی قسم کی ظاہری یا ممکنہ نااہلی نہ ہو۔

مزید یہ کہ قونصلر افسر کسی بھی درخواست گزار سے انفرادی بنیاد پر انٹرویو طلب کر سکتا ہے، اگر وہ ضروری سمجھے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button