خلیجی خبریں

برطانیہ میں قتل ہونے والا سعودی طالبعلم محمد القاسم خانہ کعبہ کا خادم نکلا، عمر بھر حجاج کی خدمت کرتا رہا

خلیج اردو
مکہ مکرمہ: برطانیہ میں قتل ہونے والا 20 سالہ سعودی طالبعلم محمد القاسم نہ صرف علم کا متلاشی تھا بلکہ خانہ کعبہ میں زائرین کی خدمت کرنے والا ایک پرعزم رضا کار بھی تھا۔ حرمین شریفین سے متعلقہ خبریں دینے والے ادارے "انسائیڈ دی حرمین” نے محمد القاسم کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی سالوں سے مسجد الحرام میں ضیوف الرحمن کی بے لوث خدمت میں مصروف رہا۔

محمد القاسم گذشتہ ہفتے برطانوی شہر کیمبرج میں چاقو کے حملے میں جاں بحق ہوگیا تھا۔ سعودی سفارتخانے کے مطابق وہ 10 ہفتوں کے ایک تعلیمی پروگرام کے تحت انگلش زبان سیکھنے کے لیے کیمبرج میں مقیم تھا۔ پولیس کے مطابق محمد پر یہ حملہ بغیر کسی اشتعال کے کیا گیا۔

"انسائیڈ دی حرمین” کے بیان میں کہا گیا کہ محمد القاسم ان نوجوانوں میں شامل تھا جو خاموشی سے اللہ کے مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں۔ وہ بزرگ حجاج کی مدد کرتا، راستہ بھٹک جانے والوں کو رہنمائی فراہم کرتا اور حج و عمرہ کے سیزن میں زائرین کے لیے عبادت کا ماحول پرسکون بناتا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ "محمد القاسم کی قربانی ان ہزاروں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی نمائندگی کرتی ہے جو بغیر کسی صلے کے اللہ کے مہمانوں کی خدمت میں جُتے رہتے ہیں، لیکن ان کے لیے اجر عظیم ہے”۔

سعودی سفارتخانے نے اعلان کیا ہے کہ محمد القاسم کی میت کو جلد سعودی عرب منتقل کیا جائے گا اور ان کی تدفین مکہ مکرمہ میں کی جائے گی۔ سوشل میڈیا پر محمد القاسم کی مسجد الحرام میں رضا کارانہ خدمات انجام دیتے ہوئے تصاویر بھی وائرل ہو رہی ہیں۔

"امت محمد القاسم کے اہل خانہ اور دوستوں سے دلی تعزیت کرتی ہے اور اللہ تعالی سے دعا کرتی ہے کہ وہ محمد القاسم کی خدمات کو قبول فرمائے، ان پر اپنی بے پایاں رحمت نازل فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔”

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button