متحدہ عرب امارات

وزارتِ تعلیم نے نئے تعلیمی سال 2025-2026 کے لیے اسکول اوقات کار جاری کردیے

خلیج اردو

دبئی: وزارتِ تعلیم نے نئے تعلیمی سال 2025-2026 کے آغاز کے ساتھ مرحلہ وار واپسی کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے تحت سرکاری اوقات کار جاری کردیے ہیں۔ یہ فیصلہ 25 اگست سے نافذ ہوگا جس کا مقصد طلبہ کو تدریجی انداز میں تعلیمی ماحول سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

وزارت کے مطابق پہلی ہفتے میں سائیکل ٹو (جماعت 9 تا 12) کے طلبہ کے لیے کم اوقات کار مقرر کیے گئے ہیں۔ لڑکوں کے اسکول پیر سے بدھ تک صبح 7:15 سے 10:35 تک جبکہ جمعرات کو 7:15 سے 2:15 اور جمعہ کو 7:15 سے 12:30 بجے تک جاری رہیں گے۔ لڑکیوں کے اسکول پیر سے بدھ تک صبح 8:00 سے 1:30 بجے تک (کم اوقات کار) جبکہ جمعرات کو 8:00 سے 3:15 اور جمعہ کو 8:00 سے 1:30 بجے تک ہوں گے۔

36 ہفتہ وار کلاسز

سائیکل تھری (جماعت 11 اور 12) کے لیے 36 ہفتہ وار کلاسز کی منظوری دی گئی ہے جن میں بنیادی اور اختیاری مضامین کے ساتھ تعلیمی معاونت بھی شامل ہے۔ پیر سے جمعرات تک روزانہ 8 کلاسز ہوں گی، جبکہ جمعہ کو اوقات کار مختصر ہوں گے۔

وزارت کے مطابق 36 کلاسز میں سے 24 کلاسز چھ بنیادی مضامین (عربی، انگریزی، اسلامیات، سوشیالوجی، اخلاقی تعلیم اور ریاضی) کے لیے مختص ہیں، جبکہ ریاضی کو ہر حال میں 7 کلاسز ہفتہ وار دی جائیں گی۔

کنڈرگارٹن طلبہ کے لیے 24 اور سائیکل ون طلبہ کے لیے 32 ہفتہ وار کلاسز رکھی گئی ہیں۔

عمومی ہدایات

وزارت نے اسکولوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ طلبہ اور والدین کے لیے محفوظ اور لچکدار تعلیمی ماحول فراہم کریں، بریک، اسمبلی اور دیگر سرگرمیوں کو متوازن انداز میں منظم کریں تاکہ تعلیمی نظم و ضبط اور طلبہ کی فلاح دونوں یقینی ہوں۔

اسکول پرنسپلز کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ "بیک ٹو اسکول” سرگرمیوں اور استقبالیہ پروگرامز کا انعقاد کریں تاکہ طلبہ اور والدین کے ساتھ مثبت تعلق قائم ہوسکے۔ والدین کی شمولیت کو بھی مختلف پروگرامز کے ذریعے یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

اسکول ٹرانسپورٹ

وزارت نے اسکولوں کو ہدایت کی ہے کہ ٹرانسپورٹ کے لیے براہ راست بس سپروائزرز کے ساتھ ہم آہنگی کریں، طلبہ کی فہرستیں اپ ڈیٹ کریں اور والدین سے ڈرائیور، سپروائزر اور ٹرانسپورٹ کوآرڈینیٹر کے رابطہ نمبر فراہم کرنے کی درخواست کریں تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری اقدامات کیے جاسکیں۔

وزارت نے اسکول اوقات کار اور آمد و رفت کے اوقات کی سختی سے پابندی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام طلبہ کے تحفظ اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button