
خلیج اردو
لندن: انگلش پریمیئر لیگ کے کلبوں نے رواں سمر ٹرانسفر ونڈو میں 3 ارب پاؤنڈ سے زائد خرچ کرتے ہوئے ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ دنیا کی امیر ترین لیگ کے کلبوں نے نئے سائننگز پر یہ خطیر رقم صرف کی، جس نے ایک بار پھر دیگر یورپی لیگز پر اپنی مالی برتری ثابت کر دی۔
پریمیئر لیگ کو طویل عرصے سے گھریلو اور بین الاقوامی نشریاتی معاہدوں کی وجہ سے بے پناہ مالی طاقت حاصل ہے۔ اس سال یورپی مقابلوں میں ریکارڈ نو انگلش ٹیموں کی شمولیت نے اخراجات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
گزشتہ دو سیزنز میں تمام نئی پروموٹ ہونے والی ٹیمیں فوراً تنزلی کا شکار ہو گئیں جس کے بعد اس مرتبہ لیڈز، سنڈرلینڈ اور برنلی نے اپنی بقا یقینی بنانے کے لیے بھرپور سرمایہ کاری کی ہے۔
گزشتہ سیزن کی ٹاپ دو ٹیمیں، لیورپول اور آرسنل، ٹائٹل کی دوڑ کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ لگا چکی ہیں۔ لیورپول نے فلورین ویرٹس کے لیے 100 ملین پاؤنڈ اور پھر الیگزینڈر ایساک کے لیے برطانوی ریکارڈ 125 ملین پاؤنڈ ادا کیے، جبکہ ڈارون نونیز اور لوئس ڈياز جیسے کھلاڑی فروخت کر کے 200 ملین پاؤنڈ سے زائد واپس بھی حاصل کیے۔
آرسنل نے میکل آرٹیٹا کو پہلا لیگ ٹائٹل دلانے کے لیے 250 ملین پاؤنڈ خرچ کرتے ہوئے آٹھ کھلاڑی سائن کیے ہیں۔ دوسری جانب چیلسی نے بھی یورپین کانفرنس لیگ اور کلب ورلڈ کپ جیتنے کے بعد اپنی اسکواڈ میں کئی نوجوان اٹیکنگ ٹیلنٹ شامل کیے ہیں۔
مانچسٹر سٹی نے ٹائجانی ریجینڈرز، ریان چرکی اور ریان آیت نوری کو سائن کیا ہے تاکہ دوبارہ ٹائٹل کی دوڑ میں شامل ہو سکے۔
سنڈرلینڈ نے گرانیٹ ژاکا اور حبیب دیارا کو ریکارڈ معاہدے کے تحت ٹیم میں شامل کیا جس کا فوری اثر بھی دیکھنے کو ملا اور انہوں نے ابتدائی تین میں سے دو میچ جیت لیے۔ برنلی اور لیڈز نے بھی اچھی شروعات کی ہیں۔
مالیاتی قوانین کی وجہ سے انگلش کلبوں کے درمیان ٹرانسفرز میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ تقریباً 40 فیصد ڈیلز لوکل کلبوں کے درمیان ہوئیں جن پر ایک ارب پاؤنڈ کے قریب خرچ آیا۔ اس رجحان نے مالی توازن قائم رکھنے میں مدد تو دی ہے مگر اس کے نتیجے میں کئی کلب اپنی اکیڈمی کے ہونہار کھلاڑی بیچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ایسٹن ولا کے جیکب ریمزی کی نیو کاسل منتقلی پر ولا کپتان جان میک گن نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام کلبوں کی پہچان چھین رہا ہے۔ منیجر یونی ایمری نے مالیاتی قوانین میں اصلاحات کا مطالبہ کیا تاکہ چھوٹے کلب بھی بڑے خواب دیکھ سکیں۔







