
خلیج اردو
اسلام آباد: پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کی بنی تحریک پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ آخری اقدام تک پہنچ چکے ہیں ۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ اکثریت ہمارے ساتھ ہے ۔ ایک دو دن کی تاخیر سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے اپوزیشن رہنماؤں کی مشاورت جاری کیلئے سابق صدر آصف زرداری کی اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان سے اڑھائی گھنٹے طویل ملاقات کی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بھی بذریعہ کال ملاقات میں شریک ہوئے ۔ ملاقات میں تحریک عدم اعتماد لانے کے حوالے سے معاملات پر تفصیلی مشاورت کی گئی تاہم یہ فیصلہ نہ ہوسکا کہ تحریک جمع کب کرائی جائے گی ۔
اس طویل ملاقات کیلئے میڈیا کو کوریج سے روکا گیا تھا۔ تاہم میڈیا نمائندوں کی وہاں موجودگی کو دیکھ کر مولانا فض الرحمن نے میڈیا نمائندوں کے تندوتیز سوالات کا جواب دیا۔ مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ تحریک عدم اعتماد کا مسودہ تیار ہے جس پر آج ہم نے مشاورت کی۔ ہم قانونی ماہرین کی رائے بھی لے چکے ہیں۔
جب مولانا سے پوچھا گیا 23 مارک کو یوم پاکستان ہے اور اس دن کیا کوئی نیا وزیر اعظم ہوگا تو مولانا نے کہا کہ ملک سلامتی کے اداروں اور اسلامی برادری سے بھی کہوں گا کہ عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک حتمی مراحل میں ہے۔ تو کوئی بھی ادارہ یا کوئی بھی ملک عمران خان کو پاکستان کا نمائندہ مت کہے۔
ایک صحافی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ انٹرویو پر مولانا کی رائے پوچھی تو تحریک عدم اعتماد کیلئے سرگرم مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ دراصل بلاول بھٹو سفر میں ہیں اور انہیں شاید حالات کا علم نہیں ۔
مولانا نے انکشاف کیا کہ شہباز شریف نے چوہدری برادران کو گھر پر کھانے کی دعوت پر بلایا تھا لیکن اس میں وہ کیوں نہیں جاسکے ۔ یہ ایک چیز آگئی ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہئیے تھا۔







