
خلیج اردو
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے زندہ ہونے یا نہ ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر سنجیدہ بحث شروع ہو گئی ہے، جہاں مختلف دعوے اور ویڈیوز گردش کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کی جانب سے حملوں کا حکم دیتے ہوئے جاری کی گئی ایک نئی تصویر دراصل پرانی نکلی، جس کے بعد شکوک و شبہات مزید بڑھ گئے۔
اس سے قبل ان کے زندہ ہونے کا ثبوت فراہم کرنے کے لیے متعدد اے آئی ویڈیوز بھی جاری کی گئیں، تاہم ان ویڈیوز میں واضح خامیاں سامنے آئیں۔ پہلی ویڈیو میں نیتن یاہو کی چھ انگلیاں دکھائی گئیں، جبکہ دوسری ویڈیو میں ایک کافی شاپ میں وہ خود ہاتھ دکھا کر کہتے نظر آئے کہ “دیکھیں میری پانچ انگلیاں ہیں”، مگر کافی کے کپ میں مائع کی مقدار غیر معمولی دیکھی گئی۔
تیسری ویڈیو میں وہ خواتین سے گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن اچانک ان کی انگلی میں موجود انگوٹھی غائب ہو جاتی ہے، جس پر صارفین نے شدید تنقید کی۔
ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے نیتن یاہو کو تلاش کر کے قتل کرنے کی دھمکیوں کے بعد یہ افواہیں مزید زور پکڑ گئی ہیں۔
تاہم اب تک اسرائیلی حکومت یا کسی مستند ذریعے سے نیتن یاہو کی موت کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات زیادہ تر غیر مصدقہ اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔





