
خلیج اردو
سوات: خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقام پر افسوسناک سانحہ پیش آیا جہاں ڈسکہ، سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 18 افراد سمیت متعدد سیاح دریائے سوات کے سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ یہ بدقسمت سیاح ہوٹل پر ناشتہ کر رہے تھے جب اچانک طوفانی پانی کا ریلا آ گیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق اب تک 10 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ تین کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ باقی افراد کی تلاش جاری ہے۔ زندہ بچنے والے سیاح عدنان نے بتایا کہ ان کی فیملی ڈسکہ سے سیر کے لیے آئی تھی، اور بہہ جانے والوں میں ان کی 4 خواتین اور 6 بچے شامل ہیں۔
متاثرہ خاندان نے الزام عائد کیا کہ ریسکیو ٹیم کو بروقت اطلاع دی گئی، لیکن وہ ایک گھنٹے کی تاخیر سے پہنچی، اور جب پہنچی تو ان کے پاس ضروری سامان بھی موجود نہیں تھا۔
واقعے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ صوبائی حکومت نے ہنگامی طور پر فلڈ سیل قائم کر دیا ہے۔ صدر مملکت، وزیراعظم شہباز شریف، گورنر خیبرپختونخوا، وزیراعلیٰ پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکام نے سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے دلی تعزیت کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امدادی کارروائیاں فوری طور پر تیز کرنے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔







