پاکستانی خبریں

کراچی میں 65 سال بعد ڈبل ڈیکر بسوں کی واپسی، پبلک ٹرانسپورٹ میں اہم پیش رفت

خلیج اردو
دبئی: پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں چھ دہائیوں سے زائد عرصے بعد ڈبل ڈیکر بسوں کی واپسی ہو گئی ہے، جسے شہری ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بدھ کے روز نئی ڈبل ڈیکر بس سروس کا افتتاح کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ بسیں یکم جنوری سے عوام کے لیے دستیاب ہوں گی، جبکہ اس سے قبل ایک روز شہر کی سڑکوں پر ان کے آزمائشی سفر مکمل کیے گئے۔ حکام کے مطابق یہ تقریباً 65 سال بعد کراچی میں ڈبل ڈیکر بس سروس کا دوبارہ آغاز ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آج کراچی میں ڈبل ڈیکر بس سروس کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے، یہ بسیں کل سے عوام کے لیے دستیاب ہوں گی جبکہ آج شہر کی سڑکوں پر ان کا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر سندھ کے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ بھی موجود تھے۔ سندھ حکومت کے مطابق اس اقدام سے شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور دیرینہ ٹریفک مسائل سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

ڈبل ڈیکر بسوں کی واپسی اکتوبر 2024 میں سندھ حکومت کے اس وعدے کی تکمیل ہے جس کے تحت کراچی جیسے 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد آبادی والے شہر میں اس سروس کو دوبارہ متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت نے دسمبر 2025 تک اس منصوبے کے آغاز کا وعدہ کیا تھا اور 31 دسمبر کو افتتاح اسی وعدے کی تکمیل ہے۔

ابتدائی مرحلے میں ڈبل ڈیکر بسیں ملیر سے شاہراہِ فیصل اور زینب مارکیٹ صدر سے ماڈل کالونی کے درمیان چلائی جائیں گی۔ حکام کے مطابق آئندہ مرحلوں میں مزید بسیں شامل کی جائیں گی اور 2026 کے دوران سروس کا دائرہ کار پورے کراچی تک پھیلانے کا منصوبہ ہے۔ ساتھ ہی اگلے ہفتے سے کراچی سمیت سندھ بھر میں نئی الیکٹرک بس روٹس بھی متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ کراچی میں اس وقت شدید ٹریفک دباؤ اور پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے، تاہم پیپلز بس سروس کے تحت روزانہ ایک لاکھ پچیس ہزار سے زائد مسافر سفر کر رہے ہیں۔ ڈبل ڈیکر بسوں کا مقصد سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد بڑھائے بغیر زیادہ مسافروں کو سہولت فراہم کرنا ہے، جبکہ یہ سروس سبسڈی کے تحت فراہم کی جا رہی ہے اور اخراجات صوبائی حکومت برداشت کر رہی ہے۔

سڑکوں کی خراب حالت پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ سندھ کابینہ نے صنعتی علاقوں میں سڑکوں کی بہتری کے لیے 9 ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کیے ہیں، جبکہ شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے سمیت بڑے انفرااسٹرکچر منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں ڈبل ڈیکر بسوں کو کراچی کے شہریوں کے لیے ایک تحفہ قرار دیا گیا ہے، اور کہا گیا ہے کہ بہتر ٹرانسپورٹ نظام کراچی کو جدید عالمی شہروں کے معیار کے قریب لانے میں مدد دے گا۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button