
خلیج اردو
اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کسی کا باپ بھی 18ویں آئینی ترمیم کو ختم نہیں کر سکتا، ہمارے سیاسی اختلافات ہوسکتے ہیں مگر ملک کے مفاد میں یکجا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے تمام جماعتوں کے لیے دروازے کھلے رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ سیاسی محاذ آرائی چھوڑ کر قانون سازی اور قومی مفاد کے امور میں تعاون کرنا چاہیے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آئندہ اس ملک میں از خود نوٹس (سوموٹو) کا عمل نہیں رہے گا اور آئینی عدالت قائم کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوموٹو کے ذریعے غیر منتخب ادارہ منتخب اداروں کی تذلیل کرتا تھا، اس لیے آئینی عدالت کے قیام سے اس طرح کے تنازعات کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ آئینی عدالت میں صوبوں کو برابری کی بنیاد پر نمائندگی دی جائے گی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ 26ویں ترمیم پر ووٹ دینے سے قبل مولانا فضل الرحمان نے تحریکِ انصاف سے اجازت لی تھی، اور اب میثاقِ جمہوریت کے نامکمل نکات کو پورا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دلوانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ بلاول نے کہا کہ اپوزیشن کا کام صرف اپنے لیڈر کے لیے رونا نہیں بلکہ وہ قانون سازی اور اہم قومی فیصلوں میں بھی حصہ ڈالے تاکہ آئین مزید مضبوط ہو۔ اگر تمام جماعتیں 27ویں ترمیم میں شامل ہوتیں تو آئین مزید مضبوط ہوتا، ان کا مؤقف تھا۔
بلاول نے عدالتوں کے پاس منتخب وزرائے اعظم کو ہٹانے کی تلوار ہونے کے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آئینی عدالت کے قیام سے یہ تلوار واپس لے لی گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشتگردی اور دیگر قومی بحرانوں سے نکلنے کے لیے میثاقِ جمہوریت کے دیگر نکات پر بھی عملدرآمد ضروری ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے قومی اتحاد، تحمل اور باہمی احترام کی اہمیت پر زور دیا اور اپوزیشن پر بھی زور دیا کہ وہ ملکی مفاد میں ساتھ دیں تاکہ آئینی استحکام اور قومی یکجہتی کو فروغ مل سکے۔






