
خلیج اردو
اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 27 ویں آئینی ترمیم کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت اس ترمیم کی حمایت نہیں کرتی اور اگر عوامی مینڈیٹ ملے تو اسے واپس کیا جائے گا۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ موجودہ ترامیم آئین کی روح کے منافی ہیں اور حکومت نے صرف اپنے مفادات کو مدنظر رکھا ہے جن سے عام عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتوں کو واپس اُن کے اختیارات دلوانا پی ٹی آئی کی اولین ترجیح ہوگی۔
گوہر علی خان نے کہا کہ ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے اختیارات محدود کردیے گئے ہیں اور چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کو ختم کردیا گیا ہے، جسے وہ "غلط” قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ اقتدار میں آ کر چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ بحال کریں گے اور عدلیہ کو ترمیم سے پہلے کے اختیارات واپس دلائیں گے۔
بیرسٹر گوہر نے آئینی اور سیاسی تناظر میں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترامیم ملک کے آئینی توازن کو متاثر کرتی ہیں اور حکومت نے وقتی سیاسی مفادات کو مقدم رکھ کر اہم آئینی معاملات میں یکطرفہ اقدام کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی آئین کی پاسداری اور جمہوری اصولوں کے دفاع کے لیے ہر اس اقدام سے نمٹے گی جو آئین کی روح کے خلاف ہو۔
اسی دوران جمعیتِ علمائے اسلام کے رہنماؤں میں سے محمود خان اچکزئی نے بھی حکومت کے خلاف قدم اٹھانے کا عندیہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جمعے کو وہ ایک پرامن تحریک کا آغاز کریں گے اور بیرونی سطح پر بھی مہم شروع کی جائے گی — ملکی و غیر ملکی سفیروں سے رابطہ کر کے انہیں حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا اور بعض ممالک کو بتایا جائے گا کہ وہ ہمارے خلاف سازشیں نہ کریں۔ اچکزئی نے اعلان کیا کہ وہ سفارت خانوں کو خطوط بھیج کر اپنی جماعت کی مواقف واضح کریں گے۔
پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں پارلیمانی عمل کے دوران ترمیم کے خلاف احتجاج اور واک آؤٹ کر چکی ہیں اور آئندہ سیاسی حکمتِ عملی کے سلسلے میں جماعتی مشاورت جاری ہے۔ حزبِ اختلاف کا موقف ہے کہ آئینی معاملات پر اس نوعیت کی یکطرفہ ترمیم سیاسی عمل میں شفافیت اور مشاورت کے اصولوں کے برخلاف ہے۔
سیاسی کشیدگی میں اضافہ کے باوجود گوہر علی خان اور دیگر اپوزیشن لیڈرز نے زور دیا ہے کہ تمام احتجاج پر امن اور جمہوری تحکامات کے تحت ہوں گے، اور آئینی مخالفت کو پارلیمانی و قانونی دائرہ کار میں حل کرنے کی کوشش جاری رکھی جائے گی۔






