پاکستانی خبریں

27ویں آئینی ترمیم: عوامی مفادات کے منافی طرزِ حکمرانی ختم ہونی چاہیے، خالد مقبول صدیقی

خلیج اردو
کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیرِ تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ملک کو ایسی جمہوریت قبول نہیں جس کے ثمرات عوام تک نہ پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفادات سے متصادم حکمرانی کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ حکمران طبقے کے مفادات براہِ راست عوامی مفادات کے خلاف ہیں، جس کے باعث ملک میں سیاسی اور معاشی عدم توازن پیدا ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جمہوریت اُس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتی جب تک اقتدار اور وسائل حقیقی معنوں میں عوام تک منتقل نہیں کیے جاتے۔

وفاقی وزیرِ تعلیم نے 18ویں آئینی ترمیم پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم کے ذریعے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے بجائے طاقت کا ارتکاز ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 140-A کا مقصد عوامی خودمختاری کو یقینی بنانا ہے، مگر اس کی مخالفت دراصل آئینِ پاکستان کی توہین ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ صوبائی خودمختاری ضرور اہم ہے لیکن اس سے زیادہ ضروری عوام کی خودمختاری ہے، جو ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے آرٹیکل 140-A سے متعلق فیصلے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسے من و عن نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ عوامی نمائندگی حقیقی معنوں میں مضبوط ہو سکے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button