
خلیج اردو
نیویارک:کیا واقعی بھارت پاکستان پر حملہ کر کے خود مذاکرات کی میز پر آ بیٹھا؟ کیا پاکستان کے میزائل حملے اتنے شدید تھے کہ بھارت کو پیچھے ہٹنا پڑا؟ ان سوالات کا جواب امریکی صحافی نک رابرٹسن کی تازہ ترین رپورٹ میں موجود ہے، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے حالیہ سیز فائر کی تہہ سے پردہ اٹھاتی ہے۔
نک رابرٹسن کے مطابق اس ساری صورتحال کا آغاز اُس وقت ہوا جب بھارت نے پہل کرتے ہوئے پاکستان کی ایک ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔ مگر شاید بھارت یہ اندازہ نہ لگا سکا کہ ردعمل کس قدر شدید ہو گا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی افواج نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر بھارت پر میزائلوں کی بارش کر دی—ایسے میزائل جو روکے نہ جا سکتے تھے، جنہوں نے بھارت کے جنگی نظام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
یہ حملے اتنے مربوط اور مؤثر تھے کہ بھارتی قیادت کو فوری طور پر مذاکرات کی راہ اختیار کرنی پڑی۔ نک رابرٹسن لکھتے ہیں کہ پاکستان کے حملوں کے بعد بھارت کے پاس جنگ کا تسلسل جاری رکھنے کی نہ سکت بچی، نہ منطق۔
تو کیا صرف عسکری ردعمل ہی کافی تھا؟ نہیں، کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ رابرٹسن کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا۔ یہ رابطے معمولی نہ تھے، بلکہ انہی کے نتیجے میں سعودی اور ترک قیادت نے ثالثی کا کردار ادا کیا، اور بالآخر وہ پل بنایا جس پر چلتے ہوئے پاکستان اور بھارت سیز فائر کے مقام تک پہنچے۔
نک رابرٹسن کی رپورٹ ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ پاکستان نہ صرف عسکری اعتبار سے مکمل تیار اور طاقتور ہے، بلکہ سفارتی سطح پر بھی اپنی جگہ بنانا جانتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب بھارت واقعی سیکھ چکا ہے، یا ایک اور جارحیت کی تیاری میں ہے؟







