پاکستانی خبریں

پی ٹی آئی کی اجلاس میں عدم شرکت پر مایوسی ہوئی، شرکت کا مشورہ دیتا اگر مجھ سے پوچھتے، مولانا فضل الرحمٰن

خلیج اردو
اسلام آباد:قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو اجلاس میں نہ دیکھ کر مایوسی ہوئی۔ اگر پی ٹی آئی مجھ سے مشورہ کرتی تو میں انہیں شرکت کا مشورہ دیتا۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کو کسی کی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ افغانستان کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کا نقصان پاکستان کو بھگتنا پڑا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ کی جنگ میں اتحادی بننے کا فیصلہ غلط تھا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ میں استاد کو شہید کہوں گا لیکن مارنے والے کو مجاہد نہیں کہہ سکتا۔ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والا دہشت گرد ہے اور دہشت گردی کا کوئی مذہب یا فرقہ نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس اہم مسئلے پر سب کو متحد ہونا ہوگا۔ قوم اور سیاسی قیادت کو کسی شک و شبہ میں پڑے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جان قربان کرنے والوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ قربانیاں ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button