پاکستانی خبریں

آپریشن بنیانُ المرصوص میں کب کیا ہوا؟ پاک فضائیہ کی فیصلہ کن کامیابی، بھارت کو تاریخی شکست

آپریشن بنیانُ المرسوس: پاک فضائیہ کی فیصلہ کن کامیابی، بھارت کو تاریخی شکست

خلیج اردو
اسلام آباد:آپریشن بنیانُ المرصوص میں پاکستان نے اپنی فضائی، زمینی اور تزویراتی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو ہر محاذ پر شکست سے دوچار کیا۔ پاک فضائیہ نے جدید ترین بھارتی طیاروں کو نشانہ بنایا جن میں 3 رافائل، 1 ایس یو 30 اور 1 مگ 29 شامل تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی ساختہ 78 ڈرونز (ہارپ اور ہاروپ) کو بھی تباہ کر دیا گیا، جس سے دشمن کی فضائی برتری کا خواب چکناچور ہو گیا۔

بھارت کا میزائل حملہ ڈنگہ کے قریب ناکام بنا دیا گیا، جب کہ پاکستانی ایئر ڈیفنس نے براہموس جیسے تیز رفتار میزائل بھی مار گرائے۔ لائن آف کنٹرول پر کئی بھارتی ہیڈکوارٹرز اور چوکیاں تباہ ہوئیں۔ بھارت کی جانب سے کی گئی 7 حملہ آور کوششوں کے جواب میں پاکستان نے 26 اہم بھارتی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ فتح-1 میزائلوں کے ذریعے دشمن کے فضائی اڈوں پر کاری ضربیں لگائی گئیں۔

یہ 21ویں صدی کی سب سے بڑی فضائی جھڑپ تھی، جس میں 112 طیارے شامل ہوئے اور پاکستان نے بغیر کسی جانی نقصان کے 5 بھارتی طیارے مار گرائے۔ ڈرون حملوں کی تاریخ کا سب سے بڑا حملہ ناکام ہوا، ایک بھی ڈرون واپس نہ جا سکا۔ میزائل ڈیفنس سسٹم نے بالادستی ثابت کر دی، حتیٰ کہ بھارت کے جدید ترین ہائپرسانک میزائل بھی ناکام رہے۔

اس جنگی ماحول کے باوجود پاکستان کا آئی ایم ایف پروگرام برقرار رہا، جس سے عالمی برادری نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ چین، ترکی، خلیجی ممالک اور سعودی عرب پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے، جبکہ اسرائیل بھارت کا واحد کھلم کھلا حمایتی ثابت ہوا۔ مغربی دنیا نے غیر جانبداری اختیار کی، بھارتی پروپیگنڈہ بری طرح ناکام ہوا۔

پاکستان نے نہ صرف بھارتی بیانیے کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا بلکہ داخلی سطح پر بھی اتحاد اور ہم آہنگی کا عملی مظاہرہ کیا۔ تینوں افواج اور سیاسی قیادت نے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی، جس کے نتیجے میں پاکستان کا مؤقف سچائی پر مبنی اور مؤثر ثابت ہوا، جبکہ بھارت کا جھوٹا بیانیہ عالمی برادری میں تضحیک کا نشانہ بنا۔

علاقائی سیاست میں بھی نئی جہت پیدا ہوئی، بھارت کا پاکستان سے خود کو الگ ظاہر کرنے کی کوشش الٹی پڑ گئی، اور کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر عالمی ایجنڈے پر آ گیا۔ پاکستان کی جانب سے تجویز کردہ تنازع کے حل کا مؤثر اور پائیدار مکینزم اب منطقی راستہ قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button