پاکستانی خبریں

پختونخوا مزید سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں، فاٹا انضمام پر نظرثانی کی ضرورت ہے،مولانا فضل الرحمان

خلیج اردو
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا اس وقت کسی بھی نئی سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں ہو سکتا، اگر کوئی تبدیلی آنی ہے تو وہ پی ٹی آئی کے اندر سے ہی آئے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی سے اگر کوئی شکایات پیدا ہوں تو ہم بیٹھ کر بات چیت کریں گے۔ مولانا کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر غور کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج عام شہری گھر سے نکلتے وقت سو بار سوچتا ہے، عوام کو تحفظ کا احساس دلانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ریاستی نظام کی تشکیل نو کے عمل پر ہماری گہری نظر ہے، سیاست کو دشمنی کے بجائے مکالمے اور افہام و تفہیم کا ذریعہ ہونا چاہیے۔

فاٹا کے انضمام سے متعلق انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہم نے فاٹا انضمام کن کے اشارے پر کیا؟ کس دباؤ پر کیا؟ انہوں نے کہا کہ دنیا کے 80 سے زائد ممالک میں ایسے علاقے موجود ہیں جنہیں فاٹا جیسے خصوصی اسٹیٹس کے تحت چلایا جاتا ہے، وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنی غلطی تسلیم کریں۔

مولانا کا کہنا تھا کہ سیاسی فیصلے بیرونی دباؤ یا وقتی مصلحت کے تحت نہیں، بلکہ قومی مفاد اور عوامی مشاورت سے ہونے چاہییں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button