
خلیج اردو
راولپنڈی:پاک فوج کے سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر کو ان کی غیر معمولی خدمات اور قومی سلامتی کے تحفظ میں جرات مندانہ کردار پر اعتراف کے طور پر فیلڈ مارشل کے اعلیٰ ترین فوجی عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری سرکاری اعلامیے کے مطابق حالیہ ملکی صورتحال میں ان کی جانب سے دکھائی گئی پیشہ ورانہ بصیرت، حکمت عملی اور قیادت برسوں کی عسکری تربیت اور تجربے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شخصیت کو "مردِ آہن” کا خطاب دیا گیا ہے، جو ان کی استقامت، دیانتداری اور ناقابل تسخیر عزم کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ ان کی عسکری خدمات کا دائرہ پاک فوج کے اہم ترین مناصب پر محیط ہے، جن میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی)، ڈی جی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، کور کمانڈر گوجرانوالہ اور آرمی چیف جیسے اہم عہدے شامل ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپریل 1986 میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ 17ویں آفیسرز ٹریننگ کورس کے ذریعے فوج میں شامل ہوئے اور منگلا کے آفیسرز ٹریننگ اسکول سے تربیت مکمل کی۔ اپنی بہترین تربیتی کارکردگی پر اعزازی شمشیر حاصل کی، اور فرنٹیئر فورس 23 بٹالین میں خدمات کا آغاز کیا۔
دوران سروس، وہ کپتان، میجر اور لیفٹننٹ کرنل کے رینک پر ترقی حاصل کرتے ہوئے سعودی عرب میں تعینات رہے، جہاں مدینہ منورہ میں بطور لیفٹننٹ کرنل انہوں نے قرآن پاک حفظ کیا، اور حافظِ قرآن ہونے کا شرف پایا۔
بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی کے بعد وہ فروری 2014 میں میجر جنرل بنے، اور فورس کمانڈ نادرن ایریا کے کمانڈر تعینات ہوئے۔ 2017 میں ڈی جی ایم آئی اور پھر اکتوبر 2018 میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی کے ساتھ آئی ایس آئی کے سربراہ مقرر کیے گئے۔ جون 2019 میں کورکمانڈر گوجرانوالہ اور بعدازاں اکتوبر 2021 میں کوارٹر ماسٹر جنرل بنے۔
24 نومبر 2022 کو وہ فور اسٹار جنرل کے طور پر پاکستان آرمی کے سپہ سالار مقرر ہوئے۔ وہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے فیلڈ مارشل ہیں جو ایم آئی اور آئی ایس آئی دونوں حساس اداروں کی قیادت کر چکے ہیں۔
ان کی قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف قومی سلامتی کے محاذ پر مستحکم پیش قدمی کی، بلکہ عالمی سطح پر عسکری وقار کو بھی بلند کیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ترقی ایک ایسے جرنیل کی کہانی ہے جس نے ہر منصب پر وقار، دیانت اور بہادری کی نئی مثالیں قائم کیں۔






