پاکستانی خبریں

صحافی شاہزیب خانزادہ کے ساتھ نامناسب سلوک کی ویڈیو پر وفاقی وزیر اطلاعات کا نوٹس

خلیج اردو
صحافی شاہزیب خانزادہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں بحث جاری ہے، جس میں ایک شخص مال میں ان کے قریب آ کر انہیں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ سے متعلق رپورٹنگ پر تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ ویڈیو میں شاہزیب خانزادہ کی اہلیہ رشنا خان بھی موجود ہیں، جبکہ ایک خاتون نے اس شخص کے رویّے کو ہراسانی قرار دیا۔

اس واقعے کی صحافیوں اور مختلف حلقوں کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اس قسم کا رویہ ناقابل قبول ہے، ایسے افراد کی شناخت کر کے ان سے نمٹا جائے گا، کیونکہ کسی کو حق نہیں کہ وہ صحافیوں یا شہریوں کو ان کی فیملی کے ساتھ ہوتے ہوئے ہراساں کرے۔ وزیر اطلاعات نے ایک اور کیس میں صحافی بینظیر شاہ کی جعلی ویڈیو بنانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔

ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر دو مختلف ردعمل دیکھنے میں آئے۔ ایک جانب لوگ شاہزیب خانزادہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت کر رہے ہیں، جبکہ متعدد افراد نے پرانے پروگرام کلپس شیئر کر کے ان پر تنقید کا اظہار کیا۔ شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ وہ عدالتی کارروائی پر مبنی خبر رپورٹ کر رہے تھے اور عدت کیس کے دوران خاور مانیکا کے مؤقف کو لفظ بہ لفظ بیان کیا تھا۔

متعدد سینئر صحافیوں نے اس واقعے کو کھلی ہراسانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اختلاف رائے کا اظہار مہذب انداز میں ہونا چاہیے۔ دوسری جانب کچھ صحافیوں نے میڈیا کے اپنے رویّے پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ کس حد تک لوگوں کی نجی زندگی میں مداخلت کو درست سمجھا جا سکتا ہے۔

عدت کیس کے حوالے سے بھی یہ ویڈیو پس منظر کا حصہ بنی ہوئی ہے، کیونکہ اسی کیس کی سماعت میں شاہزیب خانزادہ کے شو کا ایک کلپ عدالت میں بطور حوالہ چلایا گیا تھا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button