
خلیج اردو
بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم میں قصور وار قرار دیتے ہوئے ایک کیس میں سزائے موت اور ایک علیحدہ کیس میں عمر قید کی سزا سنادی۔ تین رکنی ٹریبونل کی سربراہی جسٹس محمد غلام مرتضیٰ نے کی اور ضمیمہ فیصلہ 453 صفحات پر مشتمل تفصیلی ریکارڈ پیش کیا گیا۔ فیصلے کے مطابق شیخ حسینہ واجد پر 2024 میں طلبہ تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران مظاہرین پر مہلک ہتھیار استعمال کرنے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام ثابت ہوا۔ خبر ایجنسیوں کے مطابق اقوامِ متحدہ نے مظاہروں کے دوران تقریباً 1400 افراد کی ہلاکت کی نشاندہی کی تھی۔ استغاثہ نے اس مقدمے میں شیخ حسینہ کے لیے سزائے موت کی استدعا کی تھی، اور ٹریبونل نے اس استدعا کو قبول کرتے ہوئے متعلقہ حکم سنایا۔
فیصلے کے بعد ملک بھر میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی؛ پولیس، فوج اور بارڈر گارڈز دارالحکومت ڈھاکہ اور دیگر حساس مقامات پر تعینات ہیں۔ حکام نے اعلان کیا ہے کہ کسی بھی ہنگامے یا تشدد کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔
عدالتی فیصلے پر ردعمل میں شیخ حسینہ واجد نے عوام سے کہا کہ وہ فیصلہ جاری ہونے دیں اور انہیں ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کی پرواہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں، اپنے حامی پریشان نہ ہوں، اور انہوں نے اپنے وطن کے لیے کام جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔ شیخ حسینہ نے اپنے خاندان اور گھریلو نقصان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے والدین اور بہن بھائی کھو دے چکے ہیں اور ان کے گھر کو آگ لگائی گئی، اور اس کے حساب کا مطالبہ کیا۔






