
خلیج اردو
23 اپریل 2025
اسلام آبادـسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں سال ہزاروں عازمینِ حج نہ صرف فریضہ حج ادا کرنے سے محروم رہ گئے بلکہ ان کی جمع شدہ رقوم کی واپسی بھی مشکوک ہے۔ اجلاس کی صدارت مولانا عطا الرحمن نے کی جس میں حج کوٹہ کی تقسیم اور مالی بے ضابطگیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں سیکرٹری مذہبی امور نے بتایا کہ پاکستان کو حج 2025 کے لیے ایک لاکھ دو ہزار افراد کا کوٹہ ملا تھا، مگر وزارت کی جانب سے مقررہ وقت پر کوٹہ استعمال نہ ہونے کے باعث 77 ہزار کا کوٹہ ضائع ہو گیا۔ ان میں سے صرف 10 ہزار کا کوٹہ نجی کمپنیوں کو منتقل کیا گیا، جس پر کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
سینیٹر دنیش کمار نے 67 ہزار حاجیوں کے محروم رہنے کو وزارتِ مذہبی امور کی "سنگین نااہلی” قرار دیا۔ نجی ٹور آپریٹرز کے نمائندے نے انکشاف کیا کہ 213 ملین ریال سعودی عرب بھیجے گئے، تاہم 200 ملین ریال کی کمی کے باعث حج کا مکمل پیکج مکمل نہ ہو سکا۔
مزید برآں، عون عباس نے الزام لگایا کہ بعض پرائیویٹ کمپنیوں نے 50 ہزار زائد حاجیوں سے پیسے جمع کیے، جو اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔ سیکرٹری مذہبی امور نے اعتراف کیا کہ سعودی قوانین کے تحت ہنڈی کے ذریعے ادائیگی جرم ہے، اور اگر انکوائریاں ہوئیں تو نہ صرف پرائیویٹ بلکہ سرکاری حج انتظامات بھی بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔






