پاکستانی خبریں

اسلام آباد ہائیکورٹ: کمسن بچیوں اور والدہ کے اغوا کیس میں سخت ریمارکس

خلیج اردو
اسلام آباد ہائیکورٹ میں کمسن بچیوں اور ان کی والدہ کے اغوا سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے پنجاب پولیس اور کیس کے مدعی کے کردار پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ پانچ جعلی مقدمے درج کروا کے کسی عورت اور بچیوں کو اغوا کرانا کہاں کا انصاف ہے۔ جسٹس محسن نے کہا کہ حیرت ہے کہ مدعی کون ہے، آج تک کسی نے اسے دیکھا تک نہیں، اور وہ جعلی پرچے کروا کر کیس کو چلا رہا ہے۔

جسٹس محسن کیانی نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب بھی ایک عورت ہیں، اسی لیے معاملہ ان کے پاس بھیجا تاکہ انہیں علم ہو کہ ان کی پولیس ایک عورت کے اغوا میں ملوث پائی جا رہی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ جعلی اور جھوٹے مقدمے درج کروا کر پیسے ریکور نہیں ہوسکتے، اور یہ کہ جس عورت کو اغوا کیا گیا، اسی کے گھر سے سامان چوری کر کے ریکوری دکھا دی گئی، جو انتہائی تشویشناک عمل ہے۔

عدالتی ریمارکس میں یہ بھی کہا گیا کہ پٹیشنر خود بھی صاف آدمی نہیں ہے جس نے اکتیس کروڑ روپے مالیت کی جائیداد فروخت کر دی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ماتحت پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ سینئر افسران بھی اس معاملے میں شامل ہو جاتے ہیں، جو پولیس کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

سماعت کے دوران لطیف کھوسہ نے عدالت سے درخواست کی کہ اگلی تاریخ 27 رکھی جائے، جس پر جسٹس محسن نے غیر متوقع ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “27 کو کیا پتہ میں یہاں ہوں گا بھی کہ نہیں”، جس سے کمرۂ عدالت میں مزید سنجیدگی اور تشویش کی فضا پیدا ہو گئی۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button