
خلیج اردو
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے کیسز کی کاز لسٹ منسوخ کرنے پر برہم ہو گئے۔ دوران سماعت انہوں نے ڈپٹی رجسٹرار سے استفسار کیا کہ کیا آپ اس معاملے میں ملوث ہیں؟ اور آپ نے کس کے کہنے پر کاز لسٹ منسوخ کی؟
ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل نے بتایا کہ انہیں چیف جسٹس آفس سے ہدایات ملی تھیں کہ لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے، اس لیے اس کیس کی کاز لسٹ منسوخ کر دی جائے۔
جسٹس سردار اعجاز نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ رولز میں ایسا کوئی اصول نہیں کہ جج کی مرضی کے بغیر چیف جسٹس کیس کو ٹرانسفر کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ "آپ ایک چیز کو انا کا مسئلہ بنا کر جو کچھ کر رہے ہیں، وہ ہائیکورٹ کے بخیے ادھیڑ دے گا۔ اگر ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے کہ انہوں نے انا کی جنگ جیتنی ہے تو میرا یہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ لارجر بینچ جو کارروائی کر رہا ہے، وہ اس عدالت کی کارروائی کی توہین ہے۔ جسٹس سردار اعجاز نے یہ بھی کہا کہ "آپ اس حد تک آگے نکل گئے کہ کمیشن کو ایک منٹ کے لیے بھی ملاقات نہیں کرائی۔”
عدالت نے ڈپٹی رجسٹرار کو تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کاز لسٹ منسوخ کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کر دی۔






