پاکستانی خبریں

کلبھوشن یادیو کو ایک موقع، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھارتی جاسوس کو عدالت سے رجوع کی ہدایت کردی

خلیج اردو

06 اکتوبر 2020

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے کلبھوشن یادیوکیس میں بھارت کوعدالت سے رجوع کرنے کا موقع فراہم کرتے ہوئے اٹارنی اورعدالتی نمائندہ سے دلائل طلب کرلیے۔  چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ بھارت موقع سے فائدہ نہیں اٹھا رہا ۔ بھارت عدالت کے سامنے درخواست دائرکرےاور پیش ہو ۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں لارجربینچ نے کلبھوشن یادیوکو کونسلر رسائی دینے سے متعلق کیس کی سماعت شروع کی تو عدالتی معاون حامد خان پیش ہوئے۔اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت کو بتایاکہ بھارت نے جواب میں آرڈیننس،قونصلررسائی اور بھارتی وکیل کی اجازت نہ دینے سمیت چاراعتراض کیے ہیں تمام تحفظات بے بنیاد ہیں جواب سے ثابت ہے بھارت عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔

 

اٹارنی جنرل نے نتایا کہ وفاق نے کلبھوشن کے انکارکے بعد قانونی نمائندہ مقررکرنے کیلئے اس عدالت سے رجوع کیا ۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ بھارت کوکافی موقع فراہم کردیئے جس کا فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ نمائندہ مقررکرنے پرعالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی کیا حیثیت ہوگی؟ جوبھی کریں، وہ فیصلے کی مطابقت میں ہونا چاہیے.

جسٹس اطہر نے کہا کہ کلبھوشن یادیوکے عدالت آنے پرحق زندگی یقینی بنانا ہماری ذمہ داری ہے بھارت اورکلبھوشن وکیل نہیں کرتے توکیس کیسے آگے بڑھائیں؟

عدالت نے اٹارنی جنرل اورعدالتی معاون دلائل اوربین الاقوامی عدالتی نظیریں پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 9 نومبرتک ملتوی کردی

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button