پاکستانی خبریں

کراچی: لیاری میں پانچ منزلہ عمارت منہدم، 14 افراد جاں بحق، کئی عمارتوں کو خطرہ لاحق

خلیج اردو
کراچی، 5 جولائی
کراچی کے علاقے لیاری میں قیامت صغریٰ ٹوٹ پڑی جب بغدادی میں واقع پانچ منزلہ رہائشی عمارت اچانک زمین بوس ہوگئی۔ افسوسناک واقعے میں ایک بچے اور تین خواتین سمیت 14 افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ 9 افراد کو زندہ ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔ ایک زخمی کی حالت تاحال تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق واقعہ النوید ہوٹل کے قریب پیش آیا، جہاں متاثرہ عمارت میں چھ خاندان رہائش پذیر تھے۔ عمارت گرنے سے ساتھ موجود ایک اور عمارت کا زینہ بھی زمین بوس ہو گیا۔ ریسکیو ٹیموں نے سنارکل کے ذریعے اندر پھنسے افراد کو نکالا، جبکہ اطراف کی عمارتوں کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا۔

ریسکیو آپریشن اب بھی جاری ہے اور ملبے تلے دبے مزید افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔

عمارت کو پہلے ہی خطرناک قرار دیا جا چکا تھا
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے مطابق متاثرہ عمارت 1974 سے قبل تعمیر ہوئی تھی اور تین سال قبل اسے خطرناک قرار دیا جا چکا تھا۔ متعدد بار نوٹسز جاری کیے گئے تاکہ عمارت کو خالی کرایا جا سکے۔ حتیٰ کہ یوٹیلٹی سروسز بھی معطل کر دی گئی تھیں، تاہم رہائشیوں نے خود سے بجلی کے کنکشن دوبارہ لگا لیے تھے۔ ایس بی سی اے کے مطابق ان کی کوششوں کے باعث عمارت سے 8 خاندان جا چکے تھے، لیکن باقی رہائشی باز نہ آئے۔

اتھارٹی کے مطابق لیاری میں مزید 80 عمارتوں کو نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں اور اس علاقے میں کئی عمارتیں بغیر منصوبہ بندی کے تعمیر کی گئی ہیں، جن میں لی مارکیٹ کا وسیع رہائشی علاقہ شامل ہے۔

شہر بھر میں مخدوش عمارتوں کی بھرمار
ایس بی سی اے کے مطابق کراچی میں مجموعی طور پر 550 عمارتوں کو مخدوش قرار دیا جا چکا ہے، جبکہ شہر کی 60 فیصد آبادی کچی بستیوں میں رہتی ہے، جہاں تعمیرات نہایت غیر معیاری اور خطرناک طریقے سے کی گئی ہیں۔

کراچی کے پرانے اور گنجان آباد علاقے لیاری میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران عمارتیں گرنے کے چار بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 55 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔ ان واقعات نے لیاری میں خطرناک تعمیرات اور بلدیاتی نااہلی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ واقعات سال 2020 میں رپورٹ ہوئے۔

مارچ 2020 میں بارشوں کے باعث ایک منزلہ خستہ حال عمارت گر گئی، جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور پانچ زخمی ہوئے۔

جون 2020 میں پانچ منزلہ ایک اور عمارت زمیں بوس ہوئی، جس میں 22 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اسی مہینے لیاری کی خداداد مارکیٹ کے قریب ایک اور پانچ منزلہ عمارت گرنے کا المناک واقعہ پیش آیا، جس میں 25 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔

تازہ ترین واقعہ جولائی 2025 میں بغدادی کے علاقے میں پیش آیا، جہاں پانچ منزلہ عمارت گرنے سے ایک بچے اور تین خواتین سمیت 14 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ کئی افراد زخمی اور بے گھر ہوئے۔

افسوسناک واقعے پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) سے بوسیدہ اور خطرناک عمارتوں کی مکمل تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسانی جانوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی قسم کی غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ دستیاب تمام وسائل بروئے کار لا کر ملبے تلے پھنسے افراد کو بحفاظت نکالا جائے۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور وزیر بلدیات سعید غنی نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور ریسکیو سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ میئر کراچی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گرنے والی عمارت کو ایس بی سی اے کی جانب سے چار نوٹسز جاری کیے گئے تھے، لیکن مکینوں نے عمارت خالی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ ایس بی سی اے کے نوٹسز کو سنجیدگی سے لیں اور حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔

مرتضیٰ وہاب نے اعلان کیا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی تاکہ مزید قیمتی جانوں کا ضیاع نہ ہو۔

وزیر بلدیات سعید غنی نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس بی سی اے کے متعلقہ افسران کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے اور غفلت کے ذمہ داران کے تعین کے لیے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی۔ کمیٹی کو تین دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کے مکینوں کو بارہا نوٹس دیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود اگر عمارت خالی نہ کی جائے تو نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی تعمیرات میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی جاری ہے اور یہ سلسلہ سختی سے جاری رہے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button