
خلیج اردو
پشاور:وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے سوات میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے متعدد سرکاری افسران کو معطل کر دیا ہے اور انسپیکشن ٹیم کو انکوائری کی باقاعدہ ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ترجمان صوبائی حکومت کے مطابق، یہ کارروائیاں غفلت، سست ردعمل اور پیشگی انتظامات نہ کرنے پر کی گئیں۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی کو بروقت ردعمل نہ دینے پر معطل کیا گیا، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر خوازہ خیلہ کو پیشگی وارننگ نہ دینے پر ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے فوری معطلی کے احکامات جاری کیے گئے۔ اے ڈی سی ریلیف کو پیشگی حفاظتی انتظامات نہ کرنے پر معطل کیا گیا، جب کہ ریسکیو 1122 سوات کے ضلعی انچارج کو بھی فرائض میں غفلت برتنے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
صوبائی حکومت نے سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فلڈ سیل قائم کر دیا ہے تاکہ آئندہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔
ادھر، واقعے پر صدر مملکت، وزیراعظم شہباز شریف، گورنر خیبرپختونخوا، وزیراعلیٰ پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکام نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے تعزیت کی ہے۔ وزیراعظم نے ریسکیو اور امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔






