پاکستانی خبریں

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات پھر نہ ہوسکی

خلیج اردو
راولپنڈی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ایک اور کوشش کے باوجود ملاقات نہ ہوسکی۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ایک ادارے کے ملازم تھے اور ان کی سزا ادارے کا اندرونی معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ پاکستان اور ریاستی اداروں کی مضبوطی کی بات کرتے ہیں، اور اگر صاحبِ اختیار سمجھتے ہیں تو مذاکرات کیلئے ہمارے ساتھ بیٹھیں۔ سہیل آفریدی نے بتایا کہ مذاکرات کا اختیار بانی پی ٹی آئی نے محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو دے رکھا ہے، اور وہ محمود خان اچکزئی کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

وزیراعلیٰ نے شکوہ کیا کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو اپنے لیڈر سے ملاقات سے روکنا کم ظرفی کی انتہا ہے۔ بیریئر لگا کر راستے بند کیے گئے، آخر آپ دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ ہم آئین اور قانون کے مطابق ملاقات کیلئے آتے ہیں اور آپ ہمیں روک لیتے ہو، اس سے پاکستان کا غلط تاثر دنیا میں جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بند کمروں کے فیصلوں نے صوبے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ امن کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔ گزشتہ ساڑھے تین سال سے بانی پی ٹی آئی کو مائنس کرنے کی ایک ہی پالیسی چل رہی ہے، مگر ہم کسی سے بغض نہیں رکھتے، اور ملک کے مفاد میں جو بہتر ہوگا وہی کریں گے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button