
خلیج اردو
کراچی: معروف اداکارہ مومنہ اقبال نے حالیہ انٹرویو میں ایک وائرل جعلی ویڈیو اور اس پر ہونے والی قیاس آرائیوں پر کھل کر ردعمل دیا ہے۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ "جب کسی لڑکی سے اس کے لڑکی ہونے کا ثبوت مانگا جائے تو یہ ایک انتہائی تکلیف دہ اور اذیت ناک لمحہ ہوتا ہے۔"
مومنہ اقبال کے مطابق یہ ویڈیو اگست 2022 میں دیے گئے انٹرویو کے ایک کلپ کو ایڈٹ کرکے جھوٹے انداز میں سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی تھی، جسے اب تک 45 ملین سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ اس ویڈیو نے ان کی شخصی شناخت اور جنس کے بارے میں بے بنیاد افواہوں کو جنم دیا۔
اداکارہ نے انکشاف کیا کہ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ میں تھیں اور صحافیوں کی کالز کا سامنا کر رہی تھیں۔ لوگوں کی جانب سے وضاحت جاری کرنے کے مشورے پر ان کا کہنا تھا:
"کیا میں ڈاکٹر کا نمبر دے دوں؟ یہ سب صورتحال بہت عجیب تھی۔”
منفی کرداروں پر نکتہ چینی
انٹرویو میں مومنہ نے بتایا کہ انہیں ڈراموں میں منفی کردار ادا کرنے میں زیادہ مزہ آتا ہے کیونکہ ایسے کرداروں میں اظہار کی آزادی ہوتی ہے، جو ایک فنکار کے لیے چیلنجنگ اور دلچسپ ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ڈراما سیریل "دو کنارے” میں ان کے کردار پر بعض خواتین ناظرین نے انہیں گالیاں دیں اور یہ سمجھا کہ وہ حقیقی زندگی میں بھی ویسی ہی ہیں۔
حوصلہ اور سچائی
انٹرویو کے اختتام پر مومنہ اقبال نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اگر وہ واقعی ویسی ہوتیں، جیسا کہ اس جعلی ویڈیو میں دکھایا گیا، تو وہ اسے تسلیم کر لیتیں، لیکن جھوٹ پر وضاحت دینا خود اپنی توہین کے مترادف ہوتا ہے۔
"جو میں نہیں ہوں، اُس پر صفائی دینا کہاں کی عقل مندی ہے؟






