پاکستانی خبریں

ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان انتقال کرگئے

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان آج بروز اتوار 10 اکتوبر کو انتقال کرگئے۔ ان کی نماز جنازہ فیصل مسجد اسلام آباد میں ادا کی جائے گی

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نجی اسپتال میں ڈاکٹرعبدالقدیر خان کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ شیخ رشید نے مزید بتایا کہ انہیں فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔انتقال کے وقت ڈاکٹر عبدالقدیر کی عمر 86 سال تھی۔ وہ کچھ عرصے سے علیل تھے۔ آج صبح انہیں طبیعت خرابی کے باعث انتقال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے اور صبح 7 بجے انتقال کرگئے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔ ان کی نماز جناہ آج ساڑھے تین بجے فیصل مسجد میں ادا کی جائے گی، جب کہ تدفین بھی اسلام آباد میں ہی کی جائے گی۔
یہ پاکستان کی واحد شخصیت اور پہلے پاکستانی ہیں جنہیں 3 صدارتی ایوارڈ ملے، انہیں 2 بار نشانِ امتیاز سے نوازا گیا، جبکہ ہلالِ امتیاز بھی عطاء کیا گیا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر کی زندگی پر ایک نظر
ڈاکٹر خان ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جب کہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کرنے کے بعد 31 مئی 1976ء میں انہوں نے انجینیرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں شمولیت اختیار کی ـ اس ادارے کا نام یکم مئی 1981ء کو جنرل ضیاءالحق نے تبدیل کرکے ’ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہےـڈاکٹر قدیر خان 15 برس یورپ میں رہنے کے دوران مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن میں پڑھنے کے بعد 1976ء میں واپس پاکستان آگئےـ

مئی 1998ء میں پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب تجربہ کیا اور بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے اس تجربے کی نگرانی ڈاکٹر قدیر خان نے ہی کی تھی ـ
انیس سو چھتیس میں ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر خان نے ایک کتابچے میں خود لکھا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا سنگ بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھا اور بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اسے پروان چڑھایا ـ

میزائلز کی تیاری کیلئے عبدالقدیر خان کی خدمات
کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز نے نہ صرف ایٹم بم بنایا بلکہ پاکستان کیلئے ایک ہزار کلومیٹر دور تک مار کرنے والے غوری میزائیل سمیت چھوٹی اور درمیانی رینج تک مارکرنے والے متعدد میزائیل تیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

اسی ادارے نے 25 کلو میٹر تک مار کرنے والے ملٹی بیرل راکٹ لانچرز، لیزر رینج فائنڈر، لیزر تھریٹ سینسر، ڈیجیٹل گونیومیٹر، ریموٹ کنٹرول مائن ایکسپلوڈر، ٹینک شکن گن سمیت پاک فوج کے لئے جدید دفاعی آلات کے علاوہ ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتوں کیلئے متعدد آلات بھی بنائےـ

جنرل مشرف کے دور میں بطور مشیر
ڈاکٹر خان کو صدر جنرل پرویز مشرف نے بطور چیف ایگزیکٹیو اپنا مشیر نامزد کیا اور جب جمالی حکومت آئی تو بھی وہ اپنے نام کے ساتھ وزیراعظم کے مشیر کا عہدہ لکھتے تھے لیکن 19 دسمبر 2004ء کو سینیٹ میں ڈاکٹر اسماعیل بلیدی کے سوال پر کابینہ ڈویژن کے انچارج وزیر نے جو تحریری جواب پیش کیا ہے اس میں وزیراعظم کے مشیروں کی فہرست میں ڈاکٹر قدیر خان کا نام شامل نہیں تھاـ

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button