پاکستانی خبریں

گوادر پورٹ کسی کے باپ، دادا کا نہیں، پاکستان کی ملکیت ہے ،وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی

خلیج اردو
اسلام آباد: وفاقی وزیر ریلوے نے گوادر پورٹ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ کسی کے باپ یا دادا کا نہیں بلکہ یہ پاکستان کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گوادر پورٹ 1958 میں پاکستان نے پیسے دے کر عمان سے خریدا۔

وزیر ریلوے نے مزید کہا کہ خود احتسابی کا عمل ضروری ہے اور ریلوے میں اوور ٹائم کے نظام کو بحال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریلوے کے مسائل کے حل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے اور ہر شخص ادارے کی بہتری کے لیے کام کرے گا۔

وفاقی وزیر نے یہ بھی بتایا کہ کوچز، لوکوموٹیو اور ٹرین کے پرزہ جات کے حصول کے لیے اقدامات جاری ہیں اور گوادر پورٹ کے بارے میں سب کو معلوم ہے۔

گوادر پورٹ، جو پاکستان کے جنوب مغربی حصے میں عربی سمندر کے کنارے واقع ہے، نے ملک کی اسٹریٹجک اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی تاریخ قدیم دور تک جاتی ہے، لیکن اس کی جدید اہمیت بیسویں صدی کے وسط میں شروع ہوئی۔

 گوادر اپنے اسٹریٹجک مقام اور بندرگاہ کے طور پر کئی صدیوں سے معروف رہا ہے۔ تاریخی طور پر یہ مختلف سلطنتوں کے زیر کنٹرول رہا ہے، جن میں پرتگالی، عمانی اور برطانوی شامل ہیں۔ اسے تجارت اور فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔

عمانی حکمرانی (18ویں صدی سے 1958 تک): اٹھارہویں صدی کے وسط میں عمانیوں نے گوادر پر قابض ہو کر اسے سمندری تجارت کے لیے ایک اہم بندرگاہ کے طور پر استعمال کیا۔ عمانی حکمرانوں نے اس کی ترقی کی، خاص طور پر خلیج اور بحر ہند میں تجارت کے لیے۔ عمان نے تقریباً دو صدیوں تک اس علاقے پر حکمرانی کی۔

پاکستان کی خریداری (1958): 1958 میں پاکستان نے صدر ایوب خان کی قیادت میں عمان سے گوادر خرید لیا، جس کی قیمت تقریباً 3 ملین ڈالر تھی۔ یہ گوادر کی تاریخ میں ایک اہم موڑ تھا۔ گوادر کی خریداری کا مقصد پاکستان کے لیے عربی سمندر تک رسائی حاصل کرنا اور اس کی سمندری تجارت کی صلاحیتوں کو بڑھانا تھا۔

ترقی اور توسیع (2000 کی دہائی): اکیسویں صدی کے آغاز میں گوادر پورٹ نے اپنی اہمیت میں ایک نیا مقام حاصل کیا، خاص طور پر مشرق وسطی اور افریقہ سے توانائی کی تجارت کے لیے اہم سمندری راستوں کے قریب ہونے کی وجہ سے۔ 2002 میں، اس پورٹ کو چینی کمپنی چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی (COPHC) کو 40 سالہ معاہدے کے تحت کرائے پر دیا گیا، جس کا مقصد اس کی ترقی اور انتظام تھا۔ اس معاہدے نے پورٹ کے بنیادی ڈھانچے میں اہم سرمایہ کاری کا آغاز کیا، اور اسے عالمی تجارت کے لیے ایک ممکنہ مرکز کے طور پر پیش کیا۔

چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک): گوادر پورٹ کی اہمیت 2015 میں چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے آغاز کے ساتھ بڑھ گئی۔ سی پیک ایک اربوں ڈالر کا منصوبہ ہے جس میں سڑکوں، ریلوے لائنوں اور پائپ لائنوں کی تعمیر شامل ہے تاکہ گوادر کو چین کے سنکیانگ صوبے سے جوڑا جا سکے اور چین اور پاکستان کے درمیان تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔ گوادر پورٹ کی ترقی سی پیک کے مرکزی حصے کے طور پر ہے، جو اسے عالمی ٹرانشپمنٹ ہب بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسٹریٹجک اور اقتصادی اہمیت: آج گوادر پورٹ کو ایک اہم اسٹریٹجک اثاثہ سمجھا جاتا ہے، جو وسطی ایشیا اور اس کے آس پاس کے زمین سے گھِرے علاقوں کے لیے ایک براہ راست سمندری راستہ فراہم کرتا ہے۔ یہ پورٹ پاکستان کی مجموعی اقتصادی ترقی کی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جو تجارت اور توانائی کی سیکیورٹی کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ پاکستان کی جیوپولیٹیکل پوزیشن کو بھی مضبوط کرتا ہے، جو پاکستان اور چین دونوں کے لیے بین الاقوامی تجارتی راستوں تک براہ راست رسائی فراہم کرتا ہے۔

 سی پیک کے تحت جاری سرمایہ کاری اور ترقی کے ساتھ گوادر کی ایک بڑے بین الاقوامی پورٹ کے طور پر صلاحیت بہت زیادہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ پورٹ پاکستان کی معیشت کو عالمی شپنگ لائنز کو متوجہ کر کے، تجارتی حجم میں اضافے کے ساتھ ساتھ خطے میں بے شمار روزگار کے مواقع اور انفراسٹرکچر کے منصوبے فراہم کرے گا۔

آخرکار، گوادر پورٹ کا عمانی بندرگاہ سے ایک بڑے بین الاقوامی تجارتی مرکز میں تبدیل ہونا اس ساحلی شہر کی پاکستان کے مستقبل میں تاریخی اور اسٹریٹجک اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کی ترقی پاکستان اور وسطی ایشیا میں علاقائی روابط اور اقتصادی ترقی کے لیے اہم ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button