پاکستانی خبریں

پاک فوج اپنے حدود سے باہر نہیں جاتی،این سی اے کا اجلاس حساس معاملہ ہے،اس پر تبصرہ پاک فوج کے ترجمان کا ڈومین نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

خلیج اردو
اسلام آباد: پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کا تصور "بیوقوفی” ہے، کیونکہ یہ دونوں ممالک کے لیے "باہمی تباہی” کا باعث ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی جنگ ایک "ناقابل تصور اور غیر معقول خیال” ہونا چاہیے، اور پاکستان کی جانب سے ہمیشہ امن کو ترجیح دی گئی ہے، مگر جنگ مسلط کی گئی تو جواب کے لیے مکمل تیاری موجود ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی قیادت ایک عرصے سے ایسے بیانیے کو فروغ دے رہی ہے جو کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے اور کبھی بھی کوئی چنگاری تنازع کو بھڑکا سکتی ہے۔ ان کے مطابق بھارت "آگ سے کھیل رہا ہے” اور اس کے حکومتی رویے میں ذمہ داری کا فقدان نظر آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے چھ اور سات مئی کی درمیانی شب بھارت کی فضائی کارروائیوں کے جواب میں انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور بالغ نظری سے ردعمل دیا، حتیٰ کہ جواب دینے سے پہلے سیز فائر کی پیشکش پر بھی غور نہیں کیا بلکہ پہلا جواب دینے کے بعد ہی بات چیت کی راہ ہموار کی۔ جنرل احمد شریف نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے ان حملوں کے دوران بھارت کے چھ جنگی طیارے مار گرائے، اور مزید بھی گرائے جا سکتے تھے لیکن قیادت نے محتاط رویہ اپنایا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق نو اور دس مئی کی درمیانی رات پاکستان نے ایک "نپا تلا اور متناسب” فوجی ردعمل دیا جس سے بھارت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا اور پھر بھارت کی جانب سے بات چیت کی خواہش ظاہر کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت انڈیا کے ڈی جی ایم او نے پاکستانی حکام سے رابطہ کیا تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ بھارت کا دعویٰ کہ پاکستان کو حملوں سے پہلے آگاہ کیا گیا تھا، محض "مزاحیہ بیانیہ” ہے اور اس میں کوئی صداقت نہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی انٹیلیجنس انڈیا کی اطلاع پر نہیں بلکہ اپنی نگرانی پر انحصار کرتی ہے۔

جب انڈیا کی جانب سے جیش محمد کے مبینہ کیمپس پر حملوں سے متعلق دعوے کا ذکر ہوا تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارت نے جن مقامات کو نشانہ بنایا، وہ مساجد تھیں اور ان کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ اگر بھارت کے پاس کوئی ثبوت ہے تو پاکستان تحقیقات کے لیے تیار ہے، لیکن تاحال کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہونے والے حالیہ حملے کے بعد جو ردعمل انڈیا کی طرف سے سامنے آیا وہ سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق بھارت میں کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ سکیورٹی لیپس کیوں ہوا یا داخلی مسائل کی جڑ کہاں ہے، بلکہ سارا الزام پاکستان پر لگا کر داخلی سیاست کو سہارا دیا جا رہا ہے۔

فوجی ترجمان نے بیک چینل رابطوں سے لاعلمی ظاہر کی اور کہا کہ ایسے معاملات وزارت خارجہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ تاہم انھوں نے اس بات کو سراہا کہ بین الاقوامی برادری بالخصوص امریکی قیادت نے کشیدگی کم کرانے میں مثبت کردار ادا کیا۔

انٹرویو کے اختتام پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان ایک امن پسند قوم ہے، لیکن اگر پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو پوری قوت سے دفاع کیا جائے گا اور دشمن کو جواب ضرور ملے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button