(خلیج اردو) حکومت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جانب سے افغانستان امن قائم رکھنے کے لئے بڑا اقدام گڈ اور بیڈ طالبان کا فرق ختم کردیا طالبان رہنماوں پر سخت پابندیاں عائد کردی گئی ۔ پاکستان نے پہلے ہی شر پسند طالبان کو ملک بدر کر دیا تھا ۔

حکومت پاکستان کی جانب سے نیا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اور 88 طالبان رہنماوں کے اثاثے ضبط کر لئے گئے ہیں جو اقوام متحدہ کی جانب سے بین کردیئے گئے ہیں ۔ حکومت نے جماعت داعوا جیش محمد،داعش،حقانی گروپ القائدہ پر سخت پابندیاں عائد کردی ہے ۔ حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے لسٹ میں افغان طالبان کے امن سفیر ملا برادر ، سراج الدین حقانی پر بھی پابندی عائد کردی ہے ۔
یاد رہے کہ اقتصادی ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال رکھا ہے جو منی لانڈرنگ اور دہشتگردی میں سہولت کاری کے الزام کو سامنے رکھ کر کیا گیا تھا ۔
نئے اعلانیہ میں تحریک طالبان پاکستان جماعت داعوا کے امیر حافظ سعید احمد ، جیش محمد کے سربراہ محمد مسعود اظہر ، ملا فضل اللہ ، ذکیالرحمان لکوی، محمد ،عبد الحکیم مراد ،نور ولی معسود، فضل رحیم شاہ ،جلال الدین حقانی، داود ابراہیم پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہے اور ان کہ منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد، بینک ایکاونٹ ضبط کردئے گئے ہیں ۔
لشکر طیبہ لشکر جھنگوی ، ٹی ٹی پی کا طارق گیڈار گروپ حرکت لمجاہدین ، آل رشید ٹرسٹ، آل اختر ٹرسٹ ، تنظیم جیش آل مہاجرین انصار ، جماعت الااخرار، تنظیم خطبہ امام بخاری، رابطہ ٹرسٹ لاہور ، بخالی اسلامی ثقافت سوسائٹی پاکستان، آل خرمین فاونڈیشن اسلام آباد، حرکت الجہاد اسلامی ، اسلامی جہاد گروپ ، ازبکستان اسلامی تحریک، عراق کی داعش تنظیم امارات آف تنطیم قفقاز گروپ ،عبد لحق یوگرز کو کا لعدم قرار دیا گیا ہے ۔
اقتصادی کونسل نے ابھی تک صرف جنوبی کوریا اور ایران کو بلیک لسٹ کر رکھا ہے اور پاکستان خود کو بلیک لسٹ سے بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے ۔
Source:Gulf Today







