خلیج اردو آن لائن: بھارت کی ریاست اندارپردیش میں ایک خاتون نے پولیس کے پاس رپورٹ درج کروائی کے ہے اسے 10 سال تک تقریبا 139 لوگوں کی طرف سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق حیدر آباد پولیس نے اس حوالے 42 صفحوں پر مشتمل ایف آئی آر درج کی ہے۔
اس حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر لوگوں نے غم غصے کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے مجرموں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔
فیس بک پر دیویا راتھوڑ نامی صارف نے لکھا کہ ” میں صدمےمیں، میں نہیں جانتی کہ اس نے اتنے سالوں تک زندہ کیسے رہی۔ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا وقت ہے۔ ہم سجمھتے ہیں کہ فیملی رہنے کے لیے ایک محفوظ جگہ ہے! یہ ایک شرم کا مقام ہے”۔
پولیس کے پاس شکایت درج کروانے والی متاثرہ خاتون نے دعوی کیا ہے کہ جون 2009 میں اس کی شادی کے تین ماہ بعد اس کے سسرال والوں کے ہاتھوں اس کے ساتھ جنسی ہراسانی اور جسمانی زیادتی شروع ہوئی جو نو ماہ تک جاری رہی۔
خاتون نے پولیس کو بتایا کہ دسمبر 2010 میں اس کی طلاق ہوگئی لیکن پھر بھی ہراساں کیا جاتا رہا۔
اس حوالے سے پولیس عہدیداروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "خاتون نے دعویٰ کیا کہ اسے متعدد جگہوں پر 139 لوگوں کی جانب سے جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ خاتون ان ملزموں کی دھمکیوں کی وجہ سے خوفزدہ تھیں ، اس لیے شکایت کرنے میں دیر کی۔ تاہم ہم نے مقدمہ درج کر لیا اور مزید تفتیش کر رہے ہیں”۔
مزید برآں، بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین پینل کوڈ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور خاتون کو میڈیکل چیک اپ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ بھارتی کی نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک میں سال بھر میں خواتین کے ساتھ زیادتی، زنا اور اغوا جیسے واقعات کے 3 لاکھ 37 ہزار 922 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
Source: Gulf News






