پاکستانی خبریں

ججز قانون کے مطابق ہر شخص کے ساتھ یکساں انصاف کے پابند ہیں،ذوالفقار علی بھٹو کو فیئر ٹرائل کا موقع نہیں ملا،،، ان کو دی گئی پھانسی کی سزا آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کے مطابق بھی نہیں تھی،چیف جسٹس قاضی فائیز عیسیٰ

خلیج اردو
اسلام آباد:ذوالفقار علی بھٹو کو فیئر ٹرائل کا موقع نہیں ملا،،، ان کو دی گئی پھانسی کی سزا آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کے مطابق بھی نہیں تھی، ججز قانون کے مطابق ہر شخص کے ساتھ یکساں انصاف کے پابند ہیں، ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے کیلئے کوشاں ہیں،سپریم کورٹ نے رائے دے دی۔

 

سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے سنا دی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں نو رکنی بینچ کی رائے براہ راست نشر کی گئی۔ فیصلہ سنتے وقت، بلاول بھٹو زرداری، شیری رحمان، رضا ربانی، اٹارنی جنرل اور دیگر موجود تھے۔

 

چیف جسٹس نے رائے سناتے ہوئے کہا کہ ججز بلا تفریق فیصلہ کرتے ہیں ،عدلیہ میں خود احتسابی ہونی چاہیے، عدلیہ ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کیے بنا آگے نہیں بڑھ سکتی، صدر نے ریفرنس دائر کر کے بھٹو فیصلے کو دیکھنے کا موقع دیا، نگران حکومت سمیت کسی حکومت نے ریفرنس واپس نہیں لیا،جو عوامی اہمیت کا معاملہ ہونا طے کرتا ہے۔

 

سپریم کورٹ سے 5 سوالات پوچھے گئے۔ پہلا سوال تھا کہ کیا ٹرائل آئین کے بنیادی انسانی حقوق کے مطابق تھا؟
سپریم کورٹ کی رائے یہ ہے کہ ذوالفقاربھٹو کو فیٸرٹرائل کا موقع نہیں ملا نہ یہی ٹرائل آئین اور قانون کے مطابق ہوا۔دوسرا سوال تھا کہ کیا فیصلہ عدالتی نظیر ہو سکتا ہے؟سوالیہ سوال واضح نہیں اس لئے رائے نہیں دے سکتے
تیسرا سوال تھا کہ کیا فیصلہ جانبدارانہ نہیں تھا؟

 

ہماری رائے یہ ہے کہ آٸینی تقاضے پورے کٸے بغیر ذوالفقار بھٹوکو سزا دی گٸی چوتھا سوال تھا کہ کیا سزا قرآنی احکامات کی روشنی میں درست ہے؟ جس پر سپریم کورٹ کی رائے یہ ہے کہ اسلامی اصولوں پرکسی فریق نے
معاونت نہیں کی اس لیے اسلامی اصولوں کے مطابق فیصلہ ہونے یانہ ہونے پر رائے نہیں دے سکتے۔

 

عدالت سے پانچواں سوال پوچھا گیا تھاکہ کیا شواہد سزا سنانے کے لیے کافی تھے؟سوال ہماری رائے یہ ہے کہ سزا آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کے مطابق نہیں تھی سپریم کورٹ نے رائے سناتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار بھٹو کے خلاف لاہور ہائیکورٹ
اور سپریم کورٹ میں فئیر ٹرائل اور آئینی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا،ہم ججز پابند ہیں کہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں۔ سپریم کورٹ مقدمہ میں دوبارہ شواہد کا جاٸزہ نہیں لے سکتی، سزا کا فیصلہ تبدیل کرنے کا کوئی قانونی طریقہ
کار موجود نہیں۔۔

 

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button