پاکستانی خبریں

پاکستان میں توہین مذہب کے جرم میں ایک شخص کو سزائے موت سنا دی گئی

 

خلیج اردو آن لائن:

منگل کے روز ایک پاکستانی عدالت نے ایک مسیحی شخص کو "گستاخانہ مواد” پر مشتمل ٹیکسٹ میسجز بھیجنے کے جرم میں سزائے موت سنائی ہے۔

تفصیلات کے مطابق 37 سالہ آصف پرویز 2013 سے توہین مذہب کے الزامات کے باعث زیر حراست ہے۔  آصف پرویز پر گستاخانہ مواد پر مشتمل میسج بھیجنے کا الزام آصف کے فیکٹری سپروائزر نے عائد کیے تھے۔

تاہم آصف پرویز کے وکیل سیف الملوک نے بتایا کہ پرویز نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور اس نے میسجز محض سوالات کے طور پر بھجوائے تھے۔

آصف کے وکیل سیف الملوک کا مزید کہنا تھا کہ ، "جج کو یہ کیس خارج کر دینا چاہیے تھا”۔  انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس فیصلے پر لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کریں گے۔

سیف کا مزید کہنا تھا کہ آصف” نے پہلے ہی عدالت کے فیصلے کے انتظار میں سات سال گزار دیے ہیں۔ کون جانتا ہے کہ یہ سب ختم ہونے تک اسے اور کتنے سال انتظار کرنا پڑے گا”؟

پرویز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا سپروائز اسے اسلام قبول کروانے کی کوشش کر رہا تھا۔ سپراوائزر نے  اس کے فیکٹری ملازمت چھوڑنے کے بعد اس پر توہین مذہب کا الزام لگایا تھا۔

خیال رہے کہ توہین مذہب پاکستان میں ایک بہت ہی حساس مسئلہ ہے جہاں قوانین اسلام یا اسلامی شخصیات کی توہین کرنے والے کسی بھی شخص کو سزائے موت دے سکتی ہے۔

بین الاقوامی مذہبی آزادی پر امریکی کمیشن کے مطابق اس وقت تقریبا 80 افراد ایسے الزامات کے تحت پاکستان میں قید ہیں۔ جن میں سے آدھے افراد کو عمر قید یا سزائے موت کا سامنا ہے۔

اور گذشتہ ماہ پشاور شہر میں توہین مذہب کے الزام میں ایک شخص کو عدالت کے اندر گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔

Source: Gulf Today, AFP

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button