
خلیج اردو
اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا کے بعد پیرول پر رہائی کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس کی سربراہی قائم مقام چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے کی۔
سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈاپور اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل لطیف کھوسہ نے مؤقف اپنایا کہ پیرول اور پروبیشن دو الگ قانونی دائرے ہیں، تاہم حکومتی تاخیر کے باعث عدالت سے رجوع کیا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ یہ حکومتی معاملہ ہے تو عدالت کے سامنے کیوں لایا گیا؟ جس پر وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی سزا کے خلاف اپیل عدالت میں زیر التوا ہے جبکہ ملاقاتوں سے متعلق توہین عدالت کی سات درخواستیں بھی زیر سماعت ہیں۔
لطیف کھوسہ نے شکوہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہر درخواست پر اعتراضات عائد کیے جا رہے ہیں، جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ انہیں انصاف سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت آفس کو غیر ضروری اعتراضات سے روکا جائے۔
قائم مقام چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے واضح کیا کہ درخواست کی قابل سماعت ہونے کا فیصلہ اسسٹنٹ رجسٹرار کا نہیں بلکہ عدالت کا اختیار ہے اور ہر فریق عدالت کے لیے قابل احترام ہے۔
لطیف کھوسہ نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ سات توہین عدالت کی درخواستیں زیر التوا ہیں جبکہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواست ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی۔ وکیل لطیف کھوسہ نے استدعا کی کہ پیرول پر رہائی کی درخواست کو سزا معطلی کی درخواست کے ساتھ سنا جائے، تاہم عدالت نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک علیحدہ معاملہ ہے اور اسے الگ سے سنا جائے گا۔
سماعت کے اختتام پر عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات سے متعلق تحریری حکم نامہ جاری کرنے کا حکم دیا۔






