
خلیج اردو
اسلام آباد – سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے حالیہ اجلاس میں بینکوں کی پالیسیوں، ترسیلات زر میں فیس کی ادائیگی، اور ایف بی آر کے اختیارات سمیت متعدد اہم امور پر اراکین نے گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اجلاس میں سب سے اہم معاملہ بینکوں کی جانب سے صارفین کو ویزا کارڈز کے استعمال پر مجبور کرنا رہا۔ کمیٹی اراکین نے نشاندہی کی کہ بینک غیر ملکی کارڈز کے استعمال پر ڈالرز میں منافع کی ترغیب دے کر صارفین کو مقامی کارڈز چھوڑنے پر آمادہ کر رہے ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔
🔍 مقامی کارڈز کی کم نمائندگی
اسٹیٹ بینک حکام نے بتایا کہ مارچ 2025 تک 5 کروڑ 30 لاکھ کارڈز ملک میں زیر استعمال تھے، جن میں صرف 1 کروڑ مقامی کارڈز تھے۔ کمیٹی نے اسٹیٹ بینک کو ہدایت کی کہ صارفین کو مقامی کارڈز، خاص طور پر ‘پے پاک’ کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات تجویز کیے جائیں۔
💸 ترسیلات زر پر فیس اور اضافہ
اجلاس میں ترسیلات زر میں اضافے اور ان پر عائد فیسوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ اسٹیٹ بینک نے وضاحت دی کہ حکومتی اقدامات سے ترسیلات 18 ارب ڈالر سے بڑھ کر 38 ارب ڈالر ہو گئی ہیں، اور باضابطہ ذرائع کی جانب ترغیب دینے سے حوالہ اور ہنڈی کا رجحان کم ہوا ہے۔
تاہم، کمیٹی چیئرمین نے ترسیلات پر فیس کی مد میں بڑھتی ہوئی ادائیگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پہلو پر مزید جائزہ ضروری ہے۔ وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ یہ مسئلہ کابینہ کو بھیجا جا چکا ہے۔
🧾 ایف بی آر کی گرفتاریوں اور سیاسی بنیادوں پر ہراسگی
کمیٹی نے سینیٹر افنان اللہ کی شکایت پر ایف بی آر کی جانب سے سیاسی بنیادوں پر ہراسمنٹ کے معاملات پر بھی غور کیا۔ اس سلسلے میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
اسی تناظر میں بجٹ سفارشات کے تحت فراڈ سے متعلق گرفتاری کی شق پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ نئی تعریف کے بعد یہ اختیار تقریباً ختم ہو جائے گا، اور ایسے تمام مقدمات براہ راست عدالت میں جائیں گے۔
🏛️ پارلیمان کی سفارشات پر غور
اراکین نے سوال اٹھایا کہ پارلیمان کی دونوں ایوانوں کی سفارشات کا کیا وزن ہوتا ہے، اور ان کی منظوری یا مسترد کیے جانے کے اصول واضح نہیں۔ اس پر فیصلہ کیا گیا کہ یہ حساس معاملہ ان کیمرہ اجلاس میں زیر غور لایا جائے گا تاکہ آئندہ کے لیے رہنمائی طے کی جا سکے۔
یہ اجلاس نہ صرف مالی پالیسی سازی بلکہ ریاستی اداروں کی شفافیت اور جوابدہی کے حوالے سے بھی ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا، جس میں متعدد طویل المدتی معاملات کو ایجنڈا کا حصہ بنایا گیا۔







