پاکستانی خبریں

قائم مقام گورنر کو گورنر ہاؤس میں داخلے سے روکنا غیر آئینی، سندھ ہائیکورٹ کا فوری دفاتر کھولنے کا حکم

خلیج اردو
کراچی – سندھ ہائیکورٹ نے گورنر ہاؤس کی مبینہ بندش اور قائم مقام گورنر کو دفاتر کے استعمال سے روکنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے فوری طور پر گورنر ہاؤس کے دفاتر کھولنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ پیر کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کی جائے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ قائم مقام گورنر رہائشی بلاک کے علاوہ گورنر ہاؤس کے دیگر حصے، بشمول دفاتر اور کانفرنس رومز، استعمال کرنے کا مکمل آئینی اختیار رکھتے ہیں۔

یہ عدالتی کارروائی اس وقت سامنے آئی جب قائم مقام گورنر سندھ اور اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ کو گورنر ہاؤس کے مرکزی دروازے سے واپس لوٹنا پڑا۔ موصولہ فوٹیج میں دیکھا گیا کہ اویس قادر شاہ بند دروازے کے سامنے کھڑے ہیں اور انہیں کانفرنس روم تک رسائی نہیں دی گئی۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اویس قادر شاہ نے کہا:

"میں ایک آئینی پوزیشن پر بیٹھا ہوں، میرا حق ہے کہ میں گورنر ہاؤس جاؤں۔ قانون کی پاسداری ہم سب پر لازم ہے۔ اگر آئین پر بیٹھنے والا ہی آئین کی پاسداری نہ کرے تو پھر باقی کس سے امید رکھی جائے؟”

انہوں نے مزید بتایا کہ گورنر ہاؤس میں محرم الحرام سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہونا تھا جس میں شرکت ضروری تھی، تاہم دروازے بند ہونے کے باعث انہیں واپس جانا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری گورنر ہاؤس کی چابیاں اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

گورنر ہاؤس کی وضاحت

گورنر ہاؤس کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا کہ قائم مقام گورنر کو صورتحال سے متعلق غلط فہمی ہوئی۔ ان کے مطابق، محرم کے اجلاس میں سیکریٹری داخلہ، آئی جی سندھ، اور دیگر افسران پہلے سے کانفرنس روم میں موجود تھے، اور قائم مقام گورنر کے لیے ایک مخصوص دفتر تیار تھا۔ ترجمان نے کہا کہ اگر مرکزی دفتر استعمال کرنا تھا تو بروقت اطلاع دی جاتی تو انتظام کیا جا سکتا تھا۔ گورنر کامران ٹیسوری نے واقعے کی 24 گھنٹوں میں انکوائری کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔

سندھ حکومت کا ردعمل

دوسری جانب سندھ حکومت نے اس معاملے پر سخت ردعمل دیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ:

"قائم مقام گورنر صوبے کا آئینی سربراہ ہوتا ہے، اور انہیں گورنر ہاؤس استعمال کرنے کے لیے کسی پیشگی اجازت کی ضرورت نہیں۔”

ترجمان نے مزید کہا کہ:

"کامران ٹیسوری نے زمینوں پر قبضے کیے، اب گورنر ہاؤس پر بھی قابض ہو گئے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ ایم کیو ایم کے کارکن نہیں بلکہ آئینی گورنر ہیں۔ اگر وہ اویس قادر شاہ کی عزت نہ بھی کریں تو آئین کی تو کریں۔”

یہ معاملہ آئینی عہدوں کے درمیان اختیارات کے احترام اور روایات کے تسلسل پر سوالیہ نشان بن گیا ہے، جس پر اب عدلیہ نے بھی مداخلت کرتے ہوئے واضح احکامات جاری کیے ہیں۔ پیر کو عدالت میں جمع کرائی جانے والی رپورٹ اس تنازع کی آئندہ سمت طے کرے گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button