خلیج اردو آن لائن:
گزشتہ کچھ ہفتوں سے پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ ہو راہا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں روپیہ مہنگا ہو رہا ہے۔
لیکن کیا آںے والے دنوں میں یہ رجحان جاری رہے گا یا اس میں تبدیلی آئے گی؟
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی روپے کی قدر میں اضافے کے رجحان کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پاکستان اپنے کرنٹ اکاؤنٹ کو کیسے مینج کرتا ہے۔
کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بڑھتے ہوئے ترسیل زر اور کم ہوتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی بدولت پاکستانی روپیہ درہم کے مقابلے میں 43 روپےاور ایک ڈالر کے مقابلےمیں 160 روپے پر آ کر رک جائے گا۔ یعنی توازن میں آجائے گا۔
خیال رہے کہ 26 اگست سے پاکستانی روپے کی قدر میں 6 اشاریہ 5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جس کے مطلب ہے کہ درہم کے مقابلے میں2 اشاریہ 5 روپے کا اضافہ ہوا۔ یعنی 26 اگست کو 1 درہم کے مقابلے میں 45 اشاریہ 8 روپے خریدے جا سکتے تھے لیکن روپے کی قدر میں مسلسل اضافے کے باعث 17 نومبر کو 1 درہم کے مقابلے میں 43 روپے مل رہے تھے۔
تاہم، اس جمعرات کو پاکستانی روپے کی قدر میں کچھ کمی واقع ہوئی جس سے 1 درہم کی قیمت 43 اشاریہ 34 پیسے ہوگئی ہے۔
آیئے مختلف ماہرین معیشت کی رائے جانتے ہیں کہ پاکستانی روپے کی قدر مستقبل میں کس سمت میں جائے گی:
عسکر بینک کے ٹریثرر پرویز خان نے بلومبرگ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مستقبل میں پاکستانی روپے کی قدر پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال پر منحصر ہوگی۔ جبکہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ روپے کی قدر میں اضافے کا رجحان ختم ہوگیا اور وہ موجودہ قیمتوں پر رک جائے گا۔
اوریئنٹ ایکسچینج کے سی ای او راجیو رائے پنچولی کا کہنا ہے پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ پاکستان کی ایمورٹ کم ہونے اور ڈالر کے آوٹ فلو کے کم ہونے کی وجہ سے ہوا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں اضافے کی دوسری وجہ پاکستان کے اسٹیٹ بینک کے انوویٹیو انسنٹیو پروگرام کی وجہ سے ترسیل زر میں ہونے والا اضافہ ہے۔ لہذا انکے خیال میں اس رجحان کےمطابق پاکستانی روپے کی قدر میں مزید اضافہ ہوگا اور ڈالر 155 روپے کا اور درہم 42 اشاریہ 20 روپے کا ہوجائے گا۔
اسی طرح سے ابوظہبی میں پاکستان بزنس پروفیشنل کونسل کے صدر ڈاکٹر قیصر انیس کا کہنا ہے غیر ملکی ترسیل زر کی بڑی رقم کے پاکستان میں آنے میں نے روپے کی قدر میں مزید اضافے کی توقع ہے جس سے روپے کے مقابلے میں درہم کی قیمت 40 روپے ہوجائے گی۔
مزید برآں، گزشتہ ہفتے پاکستان کے مرکزی بینک کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ اس وقت پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر 12 اشاریہ 93 بلین ڈالر پر پہنچ گئے ہیں جو کہ گزشتہ ڈھائی سالوں کی بلند ترین سطح ہے۔
درج بالا آراء کو سامنے رکھتے ہوئے اور پاکستانی کرنٹ اکاؤنٹ کے سر پلس کے رجحان کو دیکھتے ہوئے یہ توقع کیجاسکتی ہےکہ مستقبل قریب میں پاکستانی روپے کی قدر میں مزید اضافہ ہوگا جس سے ڈالر اور درہم کی قیمتوں میں کمی آنے کا امکان ہے۔
Source: Khaleej Times






