
خلیج اردو
آسٹریلیا کے جارح مزاج بلے باز ٹریوس ہیڈ نے کہا ہے کہ شاندار ایشز سیریز کے بعد امکان ہے کہ وہ آئندہ بھی ٹیم کے اوپنر کے طور پر کھیلتے رہیں گے۔ 32 سالہ ہیڈ نے اس سیریز میں تین سنچریاں اسکور کر کے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور آسٹریلیا کی برتری میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ٹریوس ہیڈ نے پرتھ ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں اس وقت اوپننگ سنبھالی جب عثمان خواجہ کمر کی انجری کے باعث باہر ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے پرتھ میں میچ وننگ 123 رنز بنائے، ایڈیلیڈ میں 170 اور سڈنی میں جارحانہ 163 رنز اسکور کر کے پانچویں اور آخری ٹیسٹ میں آسٹریلیا کو مضبوط پوزیشن دلائی۔ چوتھے دن کے آغاز پر آسٹریلیا کو 134 رنز کی برتری حاصل ہے اور اس کی تین وکٹیں باقی ہیں، جبکہ میزبان ٹیم پہلے ہی سیریز جیت چکی ہے۔
ٹریوس ہیڈ نے اپنی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اوپننگ کا کردار پسند آیا ہے اور وہ خوش ہیں کہ وہ ٹیم کے لیے فیصلہ کن انداز میں حصہ ڈال سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر ماضی میں مارنس لبوشین، اسٹیو اسمتھ اور ڈیوڈ وارنر جیسے بلے باز بھاری ذمہ داری اٹھاتے رہے ہیں، اور وہ خوش ہیں کہ اس بار انہوں نے بھی ٹیم کو سہارا دیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ عثمان خواجہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد کیا ان کا اوپنر کے طور پر برقرار رہنا طے شدہ ہے، تو ہیڈ نے کہا کہ یہ ممکنہ طور پر ایسا ہی ہوگا، تاہم ٹیم مینجمنٹ اور سلیکٹرز کھلاڑیوں کے امتزاج کو دیکھتے ہوئے حتمی فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی بیٹنگ پوزیشن پر کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب قائم مقام کپتان اسٹیو اسمتھ نے بھی شاندار فارم دکھاتے ہوئے اپنی 37ویں ٹیسٹ سنچری اسکور کی اور 129 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ ٹریوس ہیڈ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اسٹیو اسمتھ اس وقت تک ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے رہیں گے جب تک وہ اس کھیل سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے، کیونکہ وہ نہ صرف بیٹنگ بلکہ قیادت میں بھی ٹیم کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں۔






