
خلیج اردو آن لائن:
اگر آپ اپنی کمپنی سے ملازمت چھوڑتے ہیں اور ملازمت کے اختتام پر بننے والی رقم جسیے گریجوئٹی یا پنشن کہتے ہیں اگر آپ کی کمپنی دینے سے انکار کر دے تو آپ ایسی صورتحال میں کیا کر سکتے ہیں؟
ایسا ہی ایک سوال نجی خبررساں ادارے خلیج ٹائمز کو اس کے ایک قاری کی جانب سے پوچھا گیا تھا، قاری کی جانب سے کہا گیا تھا کہ” میں گیارہ سال سے عجمان میں ایک کمپنی کے پاس نوکری کر رہا ہوں۔ حال میں کمپنی میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی کو لے کر بہت مسائل تھے، لہذا میں نے نوکری استعفیٰ دے دیا۔ لیکن اب میں اپنی گریجوئٹی کے بارے میں پریشان ہوں۔ اگر کمپنی کہتی ہے کہ اس کے پاس میرے واجبات ادا کرنے کے لیے فنڈز نہیں ہیں تو ایسے صورت میں میرے پاس قانونی چارہ جوئی کے لیے کوئی راستہ ہے؟
جواب:
ہم فرض کرتے ہیں کہ آپ نے نوکری سے استعفی لیبر کانٹریکٹ میں لکھے نوٹس کا دورانیہ پورا کر کے دیا ہے۔ لہذا (آپ کے کیس میں) متحدہ عرب امارات میں ملازمت سے متعلق معاملات کے 1980 کے وفاقی قانون نمبر 8 کی دفعات اور اس کے بعد کے وزارت ہیومن ریسورس کی جانب سے جاری کردہ وزارتی قرار دادوں کا اطلاق ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ یو اے ای میں ایک ملازم اگر اپنی کمپنی یا آجر کے پاس 1 سال تک مسلسل نوکری کر چکا ہے تو وہ نوکری کے اختتام پر بننے والی رقم یعنی گریجوئٹی وصول کرنے کا حقدار ہوتا ہے۔ لہذا آپ 11 سال نوکری کر چکے ہیں اس لیے لیبر لاء کے آرٹیکل 132 کے مطابق آپ اپنی گریجوئٹی وصول کرنے کے حقدار ہیں۔
اور اگر آپ کا آجر آپ کو گریجوئٹی اور آپ کی واجب الاادا تنخواہ دینے سے انکار کرتا ہے تو آپ وازرت ہیومن ریسورس کے پاس شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ اور اگر آپ کے اور آجر کے درمیان یہ کیس احسن طریقہ سے حل نہیں ہوتا تو وزارت ایک لیٹر جاری کر کے دونوں فریقین کو عدالت میں مقدمہ درج کروانے کی اجازت دے دیتی ہے۔
جب یہ مقدمہ عدالت میں سنے جانے کے بعد فیصلہ آپ کے حق میں آجاتا ہے تو کمپنی آپ کو فیصلے میں لکھی گئی رقم ادا کرنے کی پابند ہوگی۔ جس کے بعد آپ اپنے آجر کے خلاف عمل درآمد کے حوالے سے کیس درج کروائیں گے۔
تاہم، اگر پھر بھی کمپنی فیصلہ میں درج رقم ادا کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے تو پھر عمل درآمد کورٹ آجر کے اثاثوں کی فروخت حکم دے گی اور آپ کے واجبات ادا کیئے جائیں گے۔ اور یہ ملازمت کے قانون کے آرٹیکل 4 کے مطابق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ” اس قانون کے تحت ملازم یا اس کے مستحقین کو قابل ادائیگی رقم کی بدولت آجر کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں پر دعوے کا حق ہوگا۔ اور اس کی ادائیگی کسی بھی قانونی اخراجات کی ادائیگی کے فورا بعد کردی جائے گی، جو کہ سرکاری خزانے کی جانے والی رقم اور شریعت کے مطابق بیوی اور بچوں کو دی جانے رقم ہے”۔
Source: Khaleej Times







