
خلیج اردو
09 مئی 2021
دبئی : انسان کمزور ہے اور بیماریاں اس کے ساتھ جڑی ہیں لیکن کچھ بیماریاں ایسی ہیں جو دوسروں کو منتقل ہوتی ہے اور اسی وجہ سے طبی وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور نقصانات کو دیکھتے ہوئے حکام اس کے خلاف اقدامات کرتے ہیں۔
ایسے میں ایک صارف نے سوال پوچھا ہے کہ ان کو متحدہ عرب امارات نے ٹی بی ( ٹیوبر کلوسیز ) کی وجہ سے ان پر پابندی لگائی ہے ۔ اب میں مکمل طور پر صحت یاب ہوں۔ میں اس پابندی سے خود کو کیسے کلیئر کروں۔
جواب : ہم آپ کے سوال سے فرض کرتے ہیں کہ اس وقت آپ اپنے آبائی ملک میں ہو کیونکہ آپ متحدہ عرب امارات میں آنے سے مکمل طور پر بین ہو چکے ہو اور اس کی وجہ آپ میں ٹی بی کی تشخیص کا ہونا ہے۔
یہ بھی وضح ہو کہ متحدہ عرب امارات میں ویزہ کیلئے درخواست دینے کے مرحلے میں وزارت صحت اور تحفظ سے صحت یابی کا سرٹیفیکیٹ بھی لینا ہوتا ہے۔
اب ایسے میں جب مزید ٹی بی کی علامات آُ کے اندر نہیں ہیں، آپ اپنے اوپر لگی پابندی کو ہٹا سکتے ہیں۔ یہ پابندی آپ پر 2016 میں قرارداد نمبر 5 کے مطابق لگائی گئی تھی۔
جب آپ متحدہ عرب امارات واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ پر موجود امیگریشن پابندی کو ختم کرنے کیلئے آپ متحدہ عرب امارات میں اپنے دوست یا رشتے دار کو پاور آف اٹارنی دینے سے شروع کرسکتے ہیں جو مقامی حکام کے ذریعہ قانونی حیثیت رکھتا ہے ۔
ٹی بیکیلئے اپنے آبائی ملک میں میڈیکل معائنہ کروانا اور حکومت کے منظور شدہ میڈیکل سنٹر سے میڈیکل فٹنس رپورٹ حاصل کرنا ایک دانشمندانہ فیصلہ ہوگا۔
اس کے بعد میڈیکل فٹنس رپورٹ کو قانونی حیثیت دیں جس میں کہا گیا ہو کہ آپ کو ٹی بی سے متعلق کوئی علامات نہیں ہیں۔ مذکورہ بالا مراحل مکمل ہونے کے بعد آپ تصدیق شدہ میڈیکل فٹنس رپورٹ اور متحدہ عرب امارات میں مقیم اپنے دوست یا رشتہ دار کو دیا گیا میڈیکل فٹنس رپورٹ اور پاور آف اٹارنی بھیج سکتے ہیں۔
ایک بار جب آپ کے دوست یا رشتہ دار مذکورہ دستاویزات حاصل کرلیں ، تو اسے متحدہ عرب امارات میں وزارت خارجہ اور بین الاقوامی تعاون کی وزارت میں ان کی تصدیق کرنی ہوگی۔
دستاویزات آپ میڈیکل فٹنس سنٹر کی وزارت جے ساتھ جمع کر سکتے ہیں۔ آپ کی دستاویزات کی روشنی میں وزارت فٹنس اور جی ڈی آر ایف اے آپ پر لگی پابندی ہٹا سکتے ہیں۔
آپ اپنی وزارت یا جی ڈی آر ایف اے سے درخواست کر سکتے ہیں کہ آپ کیلئے پیشہ ورانہ قانونی خدمات حاصل کریں ۔ آپ اگر یہاں ملازمت کے ویزہ پر آگئے تو آپ کا آجر مزید معلوم آپ کو دے سکتا ہے۔
Source : Khaleej Times







