متحدہ عرب امارات

قومی تحریک کی صورت اختیار کرگیا: متحدہ عرب امارات میں صحرا صفائی مہم میں 90 ہزار سے زائد رضاکار شریک

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں صحرا کی صفائی کے لیے جاری مہم نے ایک قومی تحریک کی شکل اختیار کرلی ہے، جہاں اس سال 90 ہزار سے زائد رضاکاروں نے ماحول کے تحفظ کے لیے عملی کردار ادا کیا۔ یہ مہم ایمریٹس انوائرنمنٹل گروپ کی جانب سے گزشتہ 24 برس سے جاری ہے، جس کا آغاز 2002 میں ہوا تھا، جب صرف 4,500 افراد نے اس میں حصہ لیا تھا۔

ای ای جی کی شریک بانی اور چیئرپرسن ڈاکٹر حبیبہ المرعشی کے مطابق یہ محض صفائی کی سرگرمی نہیں بلکہ ایک قومی تحریک بن چکی ہے، جس کے تحت ہر سال دسمبر میں تمام سات امارات میں سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک 17 لاکھ سے زائد رضاکار اس مہم میں حصہ لے چکے ہیں، جو اس کے بڑھتے ہوئے اثر اور عوامی شعور کا ثبوت ہے۔

راس الخیمہ میں ہونے والی صفائی سرگرمی میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔ ایکشن فلائٹ راس الخیمہ سے وابستہ پائلٹس جے پی لیمر اور روب ایکرون نے بتایا کہ وہ فضاء سے صحرا میں پھیلنے والے کچرے کو دیکھتے رہے ہیں، اسی احساس کے تحت انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر خود صفائی میں حصہ لیا تاکہ اس قدرتی حسن کو محفوظ رکھا جا سکے۔

یہ مہم خاندانی سطح پر بھی بھرپور شرکت کا منظر پیش کرتی رہی۔ بارہ سالہ کرس راجن اپنے والدین اور بہن کے ہمراہ صفائی میں شریک ہوا، جس پر والدین کا کہنا تھا کہ ان کے بچے پہلے ہی ماحولیاتی سرگرمیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں اور بطور خاندان شرکت سے بچوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ بچوں نے بھی اسے مختلف طبقات کو ایک مقصد کے تحت اکٹھا کرنے کا بہترین موقع قرار دیا۔

راس الخیمہ میں ایک ہوٹل میں کام کرنے والی ویٹریس موعاوے شاکرہ بھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ صفائی مہم میں شریک ہوئیں اور کہا کہ وہ اپنی چھٹیوں کے دن سماجی اور پائیدار سرگرمیوں میں حصہ لینا پسند کرتی ہیں تاکہ مختلف لوگوں سے ملنے اور ماحول کے لیے کچھ کرنے کا موقع مل سکے۔

ڈاکٹر حبیبہ المرعشی کا کہنا تھا کہ صحرا، جنگلی حیات اور قدرتی ماحول کا تحفظ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور اسی شعور کو اجاگر کرنے کے لیے یہ مہم برسوں سے جاری ہے، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے قدرتی حسن برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button