متحدہ عرب امارات

دبئی: سانتا لباس سے فلپائنی مٹھائیوں تک، 20 ہزار سے زائد تارکینِ وطن نے سمبانگ گابی کے پہلے دن شرکت کی

خلیج اردو
دبئی: فلپائنی کیتھولک برادری کی نو روزہ مذہبی روایت سمبانگ گابی کے پہلے دن دبئی کے سینٹ میری کیتھولک چرچ میں عقیدت اور جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا، جہاں 20 ہزار سے زائد افراد نے شام کی خصوصی عبادت میں شرکت کی۔ سمبانگ گابی فلپائن کی ایک قدیم کرسمس روایت ہے جس کا آغاز سترہویں صدی میں ہسپانوی دورِ حکومت میں ہوا تھا اور فلپائنی کمیونٹی اسے 2000 کی دہائی کے آغاز میں متحدہ عرب امارات لے کر آئی۔

فلپائن میں یہ عبادت فجر کے وقت ادا کی جاتی ہے، تاہم متحدہ عرب امارات میں اسے شام کے اوقات میں منعقد کیا جاتا ہے۔ فلپائنی افراد کے لیے سمبانگ گابی صرف عبادت نہیں بلکہ ایک اجتماعی اور ثقافتی تقریب بھی ہے، جس میں ہر عمر کے لوگ شریک ہوتے ہیں، بزرگوں سے لے کر بچوں تک، بعض افراد کام سے سیدھا چرچ پہنچے جبکہ کئی خاندان اور دوست گروپس کی صورت میں آئے اور اپنے ساتھ فولڈنگ کرسیاں اور چٹائیاں بھی لائے۔

چرچ میں ہر عبادت سے قبل کرسمس کیرولز گائے گئے جبکہ رضاکاروں نے سانتا کلاز کے لباس پہن کر بچوں میں تحائف تقسیم کیے۔ چرچ کے احاطے میں روایت کو مکمل کرنے کے لیے فلپائنی روایتی مٹھائیاں جیسے پوتو بمبونگ اور بیبنگکا بھی دستیاب تھیں۔

یہ عبادت کھلے میدان میں منعقد کی گئی، جہاں ہر سال کی طرح اس بار بھی خصوصی قربان گاہ تیار کی گئی۔ سمبانگ گابی 23 دسمبر تک جاری رہے گی اور توقع ہے کہ روزانہ 20 ہزار سے زائد افراد فٹبال گراؤنڈ، باسکٹ بال کورٹ، گرلز کمپاؤنڈ اور چرچ کے برآمدوں میں شریک ہوں گے۔

اس سال سمبانگ گابی کا موضوع ‘پاسکو سا جوبیلیو 2025’ رکھا گیا ہے، جو کیتھولک چرچ کے جوبلی سال کی عکاسی کرتا ہے۔ پیر کی عبادت کی قیادت فادر لینی اسکالاڈا نے کی جبکہ منگل کی عبادت فلپائنی کارڈینل لوئس انتونیو ٹیگلے ادا کریں گے، جو اس وقت ڈکاسٹری فار ایوینجلائزیشن کے پرو پریفیکٹ ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button