
خلیج اردو
ابوظہبی کی عدالت نے ریڈ سگنل کی خلاف ورزی کے باعث ٹریفک حادثہ کرنے والے ٹرک ڈرائیور کو اپنی کمپنی کو 89 ہزار 80 درہم ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا، جبکہ کمپنی کا 2 لاکھ 30 ہزار درہم ہرجانے کا دعویٰ مسترد کر دیا گیا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق واقعہ 13 اکتوبر 2025 کو پیش آیا، جب شپنگ اور کسٹمز کلیئرنس کمپنی کا ملازم ٹرک ڈرائیور ریڈ سگنل عبور کرتے ہوئے حادثے کا سبب بنا، جس سے انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا اور حکام نے ٹرک قبضے میں لے لیا۔ ڈرائیور نے 31 جولائی 2025 کو کمپنی میں ملازمت شروع کی تھی اور حادثہ ملازمت کے تقریباً تین ماہ بعد پیش آیا۔
اس مقدمے میں فوجداری عدالت پہلے ہی ڈرائیور کو قصوروار قرار دیتے ہوئے 10 ہزار درہم جرمانہ عائد کر چکی تھی۔ اس فیصلے کی بنیاد پر کمپنی نے ٹرک کی رہائی، مختلف اخراجات اور 230 روز تک گاڑی استعمال نہ ہونے سے ہونے والے نقصان کے ازالے کے لیے مجموعی طور پر 2 لاکھ 30 ہزار درہم ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا۔
کمپنی نے عدالت میں 50 ہزار درہم خطرناک ڈرائیونگ کے جرمانے، 3 ہزار درہم گاڑی ضبطی فیس، 2 ہزار 180 درہم ٹریفک جرمانوں، ایک ہزار 800 درہم ٹرک کو العین سے ابوظہبی منتقل کرنے کے اخراجات، 2 ہزار 100 درہم "ساعد” کی اضافی ٹرانسپورٹ فیس اور 230 روز تک ٹرک بند رہنے پر 2 لاکھ 30 ہزار درہم کے نقصان کا مؤقف اختیار کیا۔
ابوظہبی کی فیملی، سول اور انتظامی دعووں کی عدالت نے قرار دیا کہ کمپنی کی جانب سے پیش کیے گئے رسیدیں اور سرکاری دستاویزات قابلِ اعتماد ہیں اور یہ تمام اخراجات براہِ راست ڈرائیور کی غفلت کے نتیجے میں ہوئے۔ عدالت نے کہا کہ ڈرائیور ان دستاویزات کو غلط ثابت کرنے یا ان اخراجات کی تردید میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔
تاہم عدالت نے 230 روز تک گاڑی بند رہنے کے باعث دعویٰ کیے گئے 2 لاکھ 30 ہزار درہم کو مناسب نہ سمجھتے ہوئے اس مد میں 30 ہزار درہم معاوضہ مقرر کیا۔
عدالت نے ڈرائیور کو مجموعی طور پر 89 ہزار 80 درہم ادا کرنے کا حکم دیا، جس میں 59 ہزار 80 درہم دستاویزی اخراجات اور مالی نقصان، جبکہ 30 ہزار درہم گاڑی استعمال نہ ہونے کا معاوضہ شامل ہے۔ عدالت نے ڈرائیور کو عدالتی اخراجات اور 300 درہم قانونی فیس ادا کرنے کا بھی پابند بنایا۔
عدالت کے مطابق مقرر کردہ ہرجانہ کمپنی کے نقصان کے ازالے اور غیر ضروری حد سے زیادہ دعووں کے درمیان منصفانہ توازن کی عکاسی کرتا ہے۔






