
خلیج اردو
ابوظبی حکومت کی جانب سے کرایوں میں عارضی اضافے پر پابندی کے فیصلے کو جائیداد کے ماہرین نے کرایہ داروں کے لیے بڑا ریلیف قرار دیا ہے، جبکہ بعض ماہرین کے مطابق اس نوعیت کا اقدام دنیا بھر میں انتہائی کم دیکھنے کو ملتا ہے۔
نئے فیصلے کے تحت تمام رہائشی، تجارتی اور صنعتی کرایہ داری معاہدوں کی تجدید بغیر کسی اضافے کے کی جائے گی۔ اس اقدام نے سابقہ نظام کو معطل کر دیا ہے جس کے تحت مالکان مخصوص شرائط کے ساتھ سالانہ 5 فیصد تک کرایہ بڑھا سکتے تھے۔
رئیل اسٹیٹ فرم کرومپٹن پارٹنرز کے منیجنگ پارٹنر بین کرومپٹن کے مطابق سب سے اہم شق "ویکنسی پروٹیکشن” ہے۔ اس کے تحت اگر کوئی مالک مکان کرایہ دار کو نکال بھی دے تو وہ جائیداد دوبارہ اسی کرائے پر ہی دے سکے گا جس پر پہلے معاہدہ موجود تھا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں مالکان کرایہ دار کو نکالنے کے بعد مارکیٹ ریٹ کے مطابق نیا کرایہ مقرر کر سکتے تھے، لیکن اب یہ راستہ بند کر دیا گیا ہے۔ ان کے بقول دنیا میں اس سطح کا کرایہ دار تحفظ بہت کم ممالک میں دیکھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ابوظبی کے "توثیق” سسٹم میں بھی نئی پابندی نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت اگر کوئی مالک سابقہ کرائے سے زیادہ رقم درج کرنے کی کوشش کرے تو نظام خودکار طور پر اسے مسترد کر دے گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کرایہ دار نے نئے قانون سے قبل 5 فیصد اضافے پر رضامندی ظاہر بھی کر دی ہو، تب بھی معاہدہ زیادہ کرائے پر رجسٹر نہیں ہو سکے گا۔
اسپرنگ فیلڈ پراپرٹیز کے چیف ایگزیکٹو فاروق سید کا کہنا ہے کہ یہ اقدام رہائشیوں اور کاروباری اداروں دونوں کو اخراجات کے حوالے سے زیادہ یقین اور استحکام فراہم کرے گا، جس سے مالی دباؤ میں کمی اور طویل المدتی منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔
بین کرومپٹن نے کہا کہ کرایوں کا یہ انجماد ایسے وقت میں آیا ہے جب بہت سے افراد معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے یہ فیصلہ ہزاروں خاندانوں کے لیے بڑی سہولت ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ پابندی کتنے عرصے تک برقرار رہے گی۔







