متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں موسم پر قابو؟ موسم کانفرنس میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر غور

خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں منعقدہ حالیہ موسم کانفرنس میں ماہرین نے اس بات پر غور کیا کہ مصنوعی ذہانت (AI) نہ صرف موسم کی پیشگوئی کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ بادلوں پر برکھا برسانے کے لیے کیے جانے والے کلاؤڈ سیڈنگ آپریشنز کو بھی زیادہ مؤثر بنا سکتی ہے۔

امریکی نیشنل ویدر سروس کی ماہر مونیکا ینگ مین نے کہا کہ اے آئی ماڈلز کو عالمی، علاقائی اور مقامی پیمانے پر استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن درست ڈیٹا سیٹس کا انتخاب بہت ضروری ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تین سے سات دن کی پیشگوئی کے لیے اے آئی سب سے زیادہ مددگار ہے، تاہم طویل مدت کی پیشگوئی میں مشکلات رہتی ہیں کیونکہ یہ ماڈلز فزکس پر مبنی نہیں ہوتے۔

کانفرنس میں ایک سیشن میں بتایا گیا کہ اے آئی سے لیس ارتھ سسٹم پریڈکشن کے ذریعے موسم کا ڈیٹا سیٹلائٹ تصاویر، آئی او ٹی ڈیوائسز اور جیو اسپیشل معلومات کی بنیاد پر حقیقی وقت میں تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے موسمیات دان کلاؤڈ سیڈنگ کے لیے بہترین وقت اور مقام کا انتخاب زیادہ درستگی سے کر سکیں گے۔

نیشنل سینٹر آف میٹیورولوجی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل عمر الیزیدی نے کہا کہ بادلوں کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے، اس لیے اگر متعدد بادل موجود ہوں تو اے آئی کی مدد سے فورکاسٹرز تعین کر سکتے ہیں کہ کہاں کلاؤڈ سیڈنگ سب سے زیادہ مؤثر رہے گی۔

ورلڈ میٹیورولوجیکل آرگنائزیشن کے عہدیدار این لسک نے کہا کہ کچھ موسمیاتی مظاہر جیسے کہ طوفان یا کنویکٹیو سٹارمز کی درست پیشگوئی میں روایتی ماڈلز کو بھی مشکلات پیش آتی ہیں اور یہی مسئلہ اے آئی ماڈلز میں بھی ہے۔

تاہم ڈبلیو ایم او کی ڈپٹی سیکریٹری جنرل کو بیریٹ نے کہا کہ موسمیات دان ایسے آلات کے منتظر ہیں جو کم وسائل کے ساتھ زیادہ درست پیشگوئی فراہم کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی عام سطح پر استعمال نہیں ہو رہی لیکن مستقبل میں یہ موسم اور ماحولیاتی سائنس میں سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button