متحدہ عرب امارات

وپن اے آئی، اینتھروپک اور اسپیس ایکس کے آئی پی اوز: کیا یو اے ای کے سرمایہ کار امیر بنیں گے یا خطرات بڑھ جائیں گے؟

خلیج اردو
دنیا کی تین بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اوپن اے آئی، اینتھروپک اور اسپیس ایکس کے متوقع ابتدائی عوامی اجراء (آئی پی اوز) کے قریب پہنچنے کے ساتھ ہی متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کاری ماہرین نے محتاط رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اے آئی کمپنی اینتھروپک نے خفیہ طور پر امریکی اسٹاک مارکیٹ میں آئی پی او کے لیے درخواست جمع کرا دی ہے، جبکہ اوپن اے آئی بھی آئندہ ہفتوں میں ایسا قدم اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے۔ دوسری جانب اسپیس ایکس بھی ایک بڑے آئی پی او کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کی ممکنہ مالیت کھربوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

سرمایہ کاری ماہر پاتریک البرخت کے مطابق اگرچہ ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کا موقع پرکشش ہے، لیکن ابتدائی مرحلے پر قیمتیں بہت زیادہ ہونے کے باعث خطرات بھی اتنے ہی بڑے ہیں۔ ان کے مطابق عام سرمایہ کار زیادہ تر مہنگی ویلیو ایشن پر مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں، جس سے نقصان کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ ان کمپنیوں کی “بہت زیادہ ویلیو ایشن” اور مستقبل کی متوقع آمدن پر مبنی قیمتیں ہیں، جبکہ موجودہ مالی حقیقت اس کے مقابلے میں مختلف ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی انڈسٹری میں زیادہ تر صارفین کاروباری استعمال کے لیے ٹولز استعمال کر رہے ہیں، تاہم اس کا صارف مارکیٹ میں پھیلاؤ ابھی ترقی کے مرحلے میں ہے۔

ماہرین کے مطابق تینوں کمپنیوں میں سے اسپیس ایکس کو سب سے مختلف اور مضبوط سرمایہ کاری ماڈل سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف خلائی صنعت بلکہ ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہے، جس سے اس کا بزنس ماڈل نسبتاً متنوع ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ اسپیس ایکس کے ممکنہ طور پر بڑے انڈیکسز میں شامل ہونے سے اس کے شیئرز کی طلب میں فوری اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ بڑے فنڈز اور ای ٹی ایفز کو اپنے پورٹ فولیو میں اس کے حصص شامل کرنا پڑیں گے۔

سرمایہ کاری ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ ٹیک بومز کی طرح ابتدائی جوش و خروش کے بعد قیمتوں میں کمی کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے، اس لیے سرمایہ کاروں کو محتاط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق یو اے ای کے سرمایہ کاروں کو اپنے پورٹ فولیو کو متوازن رکھنے اور صرف ایک ہی شعبے پر انحصار نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button